Under Construction

Jaffar e Tayyar..!

J.T.C.H.S

جعفر طیار – Jaffar e Tayyar

Tag Archive : Malir mandir

سید ابوجعفر زیدی۔ بانی قائمیہ امام بارگاہ ملیر

*حقیقی عزادار*
*(سید ابوجعفر زیدی۔ بانی قائمیہ امام بارگاہ ملیر )*

جب پاکستان معرض وجود میں آیا۔ تو متحدہ ہندوستان میں کام کرنے والے مسلمان سرکاری ملازمین کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ چاہیں تو پاکستان چلے جائیں اور چاہیں تو ہندوستان میں رہیں۔ لیکن مسلمان سرکاری ملازمین کی اکثریت نے پاکستان جانے کو فوقیت دی۔ انہی ملازمین میں سید ابو جعفر عطا زیدی بھی شامل تھے جو کہ ریلوے میں ملازم تھے۔آپ کے والد ہاتھرس کے ریلوے اسٹیشن کے اسٹیشن ماسٹر تھے۔ جب کہ آپ کے دادا ریاست اودھ میں وزیر مالیات تھے۔ تاہم اصل وطن آپ کا ترکیاواس تھا جہاں آپ کی ایک بڑی جائیداد موجود تھی مگر نواب شجاع الدولہ(1775- 1754) کے دور حکومت میں وزیر مالیات ہونے کی وجہ سے آپ نے اپنی حویلی صفی پور میں بنا لی تھی ۔ آپ کے خاندان کے 7 بزرگ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی لڑنے کے جرم میں پھانسی چڑھائے گئے تھے۔


پاکستان آنے کے جوش میں گھر کا ضروری سامان ہی لیا جس میں آپ نے اپنے امام بارگاہ کا سامان بھی رکھ لیا تاکہ پاکستان میں بھی اپنے شہر صفی پور جیسی عزاداری کی جا سکے۔ پاکستان آنے کے ساتھ ہی جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہوا وہ رہائش کا تھا۔ بڑی مشکلوں سے کھارادر کے بڑے امام بارگاہ سے بالکل متصل ایک فلیٹ میں رہائش مل گئی جس میں خاندان کے دیگر افراد بھی رہائش پذیر ہوئے۔ ابھی سر چھپانے کے لیے آسرا ہی ملا تھا کہ کچھ مہینوں بعد کھارادر کی مسجد والوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہم لوگ مسجد کی مزید توسیع کر رہے ہیں اس میں اگر آپ اپنے مکان کو بھی دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ یوں آپ نے مسجد والوں سے وعدہ کر لیا کہ ہم نیا مکان تلاش کرتے ہیں جیسے ہی مل گیا آپ کو یہ مکان دے جائیں گے۔ کچھ ہی عرصے میں آپ کے چھوٹے بھائی کاظم زیدی کو ملیر سٹی میں ایک مکان مل گیا۔ اور یوں 1948 میں آپ اپنے خاندان کے ہمراہ ملیر سٹی آگئے۔ یہ جگہ ملیر مندر نامی ایک علاقہ تھا جہاں پر ایک بہت بڑے ہندو سیٹھ دولت رام کی حویلی تھی جو دولت رام بلڈنگ کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔ اس بلڈنگ کے مختلف حصوں میں دہلی سے آئے ہوئے بہت سے انتہائی وضع دار خاندان آباد تھے۔ جب کہ ایک حصہ خالی تھا جس میں آپ کا خاندان آکر آباد ہو گیا۔ ہندو سیٹ دولت رام خود تو ہندوستان چلا گیا تھا مگر اپنے ایک نوکر کو وہیں پر چھوڑ گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد نوکر کو سیٹھ کا پیغام آیا کہ تم بھی ہندوستان چلے آؤ کیونکہ ہمیں اس حویلی سے بھی زیادہ بڑی سجی سجائی مسلمانوں کی حویلی کلیم میں مل گئی ہے۔ دولت رام بلڈنگ میں سکونت اختیار کرنے کے تھوڑے ہی دنوں بعد محرم آگئے۔ آپ نے پہلے ایک مجلس کرنے کا پروگرام بنایا لیکن مسلہ یہ درپیش تھا کہ مجلس تو ہو جائے لیکن لوگ کہاں سے آئیں گے۔ اس سلسلے میں آپ اپنی ساس اور آپنی بھانجی کے ہمراہ پورے علاقے کا دورہ کرنے کے لئے نکلے کے کہیں کوئی مومن عزادار کا گھر مل جائے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر ایک ایسے گھر پہنچ ہی گئے کہ جس کے خدوخال اور لوگوں کی شکلوں سے اپنائیت جھلک رہی تھی۔ یہ مکان سید ضمیر حسین زیدی صاحب کا تھا۔ جو اپنے پورے کنبے کے ساتھ یہاں قیام پذیر تھے اور اپنا ایک چھوٹا سا امام بارگاہ بھی بنایا ہوا تھا جس کا نام حسینی امام بارگاہ تھا۔ یوں ان دونوں خاندانوں کی دوستی ہوگئی جو آج تک پہلے دن کی طرح قائم و دائم ہے۔ سارے لوگ خوشی خوشی گھر پہنچے اور بقیہ لوگوں کو مومنین کے ملنے کی خوشخبری سنائی اور فوری طور پر مجلس کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ مجلس میں تبرک کے طور پر کھیر کے پیالے بانٹے۔ مگر لوگ اندازے سے کم تھے اس لیے تبرک بچ گیا جسے فوری طور پر آپ کھارادر لے گئے اور وہاں پر مومنین میں بانٹ کر واپس آگئے۔


1949 میں باقاعدہ امام بارگاہ بنا لیا اور اپنے صفی پور کہ امام بارگاہ کے نام پر قائمیہ امام بارگاہ رکھا۔ انہی دنوں میں کچھ لوگوں نے تھانے میں امام بارگاہ کے خلاف درخواست دے دی ۔ تھانے دار گھر آگیا اور آپ کی اہلیہ کو بول کر گیا کہ شام کو جب آپ کے شوہر آئیں تو انہیں تھانے بھیج دیجئے گا۔ شام کو جب آپ تھانے گئے تو تھانے دار نے آپ کو کہا کہ میں نے اپنے پاس امام بارگاہ کے نام کی انٹری کر لی ہے اب آپ کو کوئی تنگ نہیں کرے گا اور کہا ” جو تم ہو وہی میں ہوں ” میرے ہوتے ہوئے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔
1950 میں جب محرم شروع ہوئے تو باقاعدہ عشرہ مجالس شروع کیا گیا۔ 7 محرم کو آپ کے چھوٹے بھائی کاظم زیدی نے کہا کہ میں جلوس نکالوں گا اور کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر علم لے کر نکل گئے۔ اس وقت کیونکہ محمدی ڈیرہ نہیں بنا تھا اس لیے وہ ملیر15 سے علم کو گھما کر واپس قائمیہ امام بارگاہ لے آئے۔ جب سے آج تک یہ جلوس 7 محرم کو برآمد ہوتا ہے اور اس جلوس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہندوستان کے شہر ترکیاواس کی عزاداری کا مکمل کلچر موجود ہوتا ہے۔ اور ترکیاواس کے رہنے والے کراچی میں جہاں جہاں ہیں وہ اس جلوس میں ضرور پہنچتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کراچی میں ترکیاواس کے لوگوں کا مرکزی جلوس ہے۔
8 محرم کو حسینی امام بارگاہ سے جلوس برآمد ہونے لگا اور وہ بھی اسی طرح سے گشت کرتا ہوا واپس آتا لیکن جب محمدی ڈیرہ بنا تو یہ محمدی ڈیرہ کے ایک مکان کے اندر موجود امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔
10 محرم کو صبح دونوں امام بارگاہوں سے تعزیے نکلتے اور ملیر ندی کی طرف جاتے اور ندی میں ان کو دفن کر کے آتے تھے۔ محمدی ڈیرہ بننے کے بعد سے یہ تعزیے محمدی ڈیرہ کی مسجد میں جا کر ٹھنڈے کیے جاتے ہیں۔
ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ ایک اور مصیبت سر پر آگئی آپ نے جو اپنا کلیم جمع کرایا تھا وہ مسترد ہو گیا۔ کیوں کہ آپ کے والد انڈیا میں موجود تھے اور ساری جائیداد انہی کے پاس تھی۔ جب کہ قانون یہ تھا کہ جس کے والدین انڈیا میں ہی ہیں ان کو کلیم نہیں ملے گا۔ اور یوں جو مکان دولت رام بلڈنگ میں آپ کے پاس تھا۔ کسی اور کے کلیم میں نکل گیا۔ اب وہ شخص بار بار آتا اور کہتا کہ اپنا سامان یہاں سے اٹھاؤ۔ آپ کے لیے بہت مشکل وقت تھا کیوں کہ امام بارگاہ کی وجہ سے مکان چھوڑنا نہیں چاہ رہے تھے اور نہ ہی اتنا پیسہ تھا کہ آپ مکان کے اصل مالک سے اس کو خرید سکیں۔ آخر کار آپ نے اپنے عزیز اور جاننے والوں سے قرضہ لے کر اس مکان کو خرید لیا۔
1956 میں جب امامیہ امام بارگاہ ایف ساؤتھ بنا تو وہاں کے کچھ لوگ جن میں سامن حسین زیدی، علی حسن زیدی اور اختر حسین زیدی شامل تھے آپ کے پاس آئے اور بتایا کہ ہم ایک جلوس امامیہ امام بارگاہ سے نکال کر آپ کے امام بارگاہ میں ختم کرنا چاہتے ہیں جس کا آپ نے بھرپور خیر مقدم کیا اور طے پایا کہ ہر سال 5 محرم کو امامیہ امام بارگاہ سے جلوس برآمد ہوگا جو قائمیہ امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوگا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
جب محمدی ڈیرہ وجود میں آیا تو پھر وہاں کے لوگوں نے بھی ایک جلوس ربیع الاول کی پہلے جمعہ کو نکالنا شروع کیا جو قائمیہ امام بارگاہ پر آ کر اختتام پذیر ہوتا ہے یہ جلوس انجمن ظفر الایمان نکالتی ہے۔


آپ کا عزاداری سے لگاؤ اس حد تک تھا کہ اس زمانے میں ہر مہینے چینی ایک کوٹے کے تحت ملتی تھی۔ مگر آپ کے گھر والے پورے سال گڑ کی چائے پیتے اور کبھی بھی چینی استعمال نہیں کرتے تاکہ جب جلوسوں کے اختتام پر عزادار پہنچیں تو ان کو چینی والی چائے پلائی جائے۔
1971 میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ کے انتقال کے بعد جو محرم آئے تو اس میں امامیہ امام بارگاہ والے اور محمدی ڈیرے والے آپ کے گھر تشریف لائے اور آپ کی اہلیہ سے گزارش کی کہ آپ کے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں مگر آپ جلوس کا پرمنٹ کینسل نہ کیجیے گا سارے انتظامات ہم سنبھال لیں گے۔ ان کی اہلیہ نے کہا کہ ان کی وصیت ہے ہم ہر حال میں عزاداری کو قائم رکھیں گے۔ ان کی اہلیہ اور بچوں نے انتہائی مشکل حالات میں عزاداری کو قائم رکھا اور انتہائی کم عمر میں یتیم ہونے کے باوجود اپنے والد کی بتائی ہوئی راہ سے ایک لمحے کے لئے بھی روگردانی نہیں کی۔
آپ کو صرف عزاداری سے عشق ہی نہیں تھا بلکہ آپ امام حسین کے سچے عاشق تھے اور ہر حال میں سچ بولنا اور مشکل سے مشکل حالات میں انصاف اور ایمانداری سے کام کرنا آپ کا خاصا تھا۔ انہی خصوصیات کے ساتھ آپ پورے ریلوے میں مشہور تھے۔
آپ کی اہلیہ کی عزاداری سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کسی بھی کپڑے پر نظر پڑتی تو پہلے انکے دماغ میں یہ آتا کے اس کپڑے سے علم کا پھریرا بہت اچھا بنے گا۔ آپ کے بچوں اور اہلیہ کے اخلاق کی وجہ سے مکمل اہل سنت آبادی میں اکیلا امام بارگاہ ہونے کے باوجود سارا محلہ انتہائی عزت و احترام سے پیش آتا ہے۔ یہاں تک کہ جب آپ کی اہلیہ کا 2008 میں انتقال ہوا تو محلے والوں کے انتہائی اصرار پر نماز جنازہ جعفرطیار یا محمدی ڈیرہ میں ہونے کے بجائے محلے کے گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ جس میں اہل سنت آبادی کی بہت بڑی تعداد شامل ہوئی۔ یہاں تک کہ محلے کے وہ لوگ جو بیس پچیس سال پہلے اس علاقے کو چھوڑ گئے تھے وہ بھی آپ کے انتقال کی خبر سن کر نماز جنازہ میں شریک ہونے کے لیے پہنچے ایک انسان کی عظمت اس سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے کے اس کے جنازے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوں اور وہ بھی دوسرے فرقے کے اور یہی انسان کی زندگی کا کمال ہے جو مرحومہ نے حاصل کیا اپنے بہترین اخلاق سے۔ آپ کے بچوں کے بھی اخلاق کا عالم یہ ہے کہ 7 محرم کو نکلنے والا جلوس اتحاد بین المسلمین کا ایک بہترین نمونہ ہے۔
جلوس جب نیشنل ہائی وے سے اتر کر مندر کے علاقے میں واپس داخل ہوتا ہے تو ایک جگہ بلوچوں کے محلے سے نکل کر چٹائی گراؤنڈ میں آتا ہے۔ ایک سال بلوچوں کے محلے میں گٹر بری طرح سے ابلے ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے مجبوراً جلوس کو ایک گلی پہلے موڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ عین جلوس اس جگہ پہنچنے سے پہلے اس محلے کے لوگ آپ کے بڑے بیٹے کے پاس آئے اور کہا کہ سنا ہے کہ جلوس ہمارے محلے سے نہیں گزرے گا۔ تو انہوں نے گٹر کے پانی کی وجہ بتائی۔ یہ لوگ ان کو اپنے ساتھ محلے میں لے آئے جہاں گٹر کا پانی کہیں بھی نہیں تھا۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ ان لوگوں نے سارا پانی اپنے اپنے گھروں میں داخل کرلیا تھا اور روڈ کو صاف کر دیا تھا۔ جیسے ہی جلوس گزر گیا سب نے اپنے اپنے گھر سے دوبارہ گندے پانی کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔ پیار محبت اور رواداری کی ایسی مثال شاید ہی کہیں اور ملے۔
تحریر و تحقیق
پروفیسر سید علی عمران