Under Construction

Jaffar e Tayyar..!

J.T.C.H.S

جعفر طیار – Jaffar e Tayyar

Author: admin

وفاداری اور شخصیت کی مکمل تعریف کو سمجھنے کے لیے ابوالفضل عباس ع کی زندگی سے متعلق اپنے آپ سے یہ سوالات پوچھیں۔

عباس کی شخصیت کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے اپنے آپ سے یہ سوالات پوچھیں:

کیا عباس کے علاوہ کوئی اور ہے جو پیاس سے مرتے وقت ٹھنڈا پانی پھینک دے، صرف اس لیے کہ اسے اپنے پیارے بھائی اور اس سے بھی بڑھ کر اپنے آقا امام حسین علیہ السلام کی پیاس یاد تھی؟

کیا عباس کے علاوہ کوئی اور ہے جس نے امام حسین علیہ السلام کے کیمپ میں بچوں اور نوزائیدہ بچوں کی چیخیں سنی ہوں اور بغیر سوچے سمجھے ہمت کے ساتھ پانی لینے کے لیے بھاگا ہو؟

کیا عباس کے علاوہ کوئی اور ہے جس نے میدان جنگ سے واپس آنے سے انکار کیا ہو اور دریائے فرات کے کنارے رہنے کو ترجیح دی ہو تاکہ وہ اپنی محبوب سکینہ سے اس شرمندگی میں نہ ملے کہ اس کی پیاس بجھانے کے لیے پانی واپس نہیں لایا۔ اس نے وعدہ کیا؟

کیا عباس کے علاوہ کوئی اور ہے جسے “الصقاء” (پانی بردار) کا خطاب ملا ہو، کیونکہ اس نے کربلا کی المناک جنگ میں امام حسین علیہ السلام کے کیمپ کے لیے پانی حاصل کرنے کی کوشش میں اپنی جان قربان کردی؟

کیا عباس کے علاوہ کوئی ہے جو دریائے فرات کے کنارے اپنے آخری لمحات میں بھی، جب وہ آخری سانسیں لے رہا تھا، امام حسین کے مصائب کو یاد کرتا ہو، اور امام کی گود میں سر رکھنے سے انکار کرتا ہو؟ کیا اس کے جان لیوا زخم کے بعد بھی اسے تسلی دی؟

کیا عباس کے علاوہ کوئی اور ہے جس کی آخری التجا یہ تھی کہ امام حسین علیہ السلام اپنی آنکھوں سے خون نکال دیں تاکہ وہ اپنے آقا کی ایک آخری نظر سے اپنی بینائی کو پاک کر سکیں، جیسے امام حسین علیہ السلام ان کی آنکھوں کے پہلے شخص تھے۔ عباس کی ولادت کے وقت ان پر لیٹنا؟

کیا عباس کے علاوہ کوئی اور ہے جسے امام حسین علیہ السلام نے اپنی “ریڑھ کی ہڈی” سے تعبیر کیا جو عباس کی شہادت کے بعد کاٹ دی گئی؟

کیا عباس کے علاوہ کوئی اور ہے جس کو یہ شرف نصیب ہوا ہو کہ ان کا حرم ان کے بھائی سے مشابہت رکھتا ہو کہ امام حسین کی زیارت کرنے والے سب سے پہلے ان کے دروازے پر آئیں؟

کیا عباس کے علاوہ کوئی اور ہے جس نے زینب سلام اللہ علیہا کے ولی اور محافظ کی حیثیت سے اس کو قبول کیا ہو اور اسے عزت بخشی ہو؟

کیا عباس کے علاوہ کوئی اور ہے جو “قمر بنی ہاشم” (بنی ہاشم کا چاند) اور “باب الحوائج” (ضروریات کا دروازہ) کا لقب رکھتا ہو کہ اس کے ٹھکانے اور معجزات پر دعائیں اور دعائیں قبول ہوں؟ کیا اس کی برکتوں سے ظاہر ہوتے ہیں؟

درحقیقت ابوالفضل العباس کی زندگی ایک بھائی کے لیے بے مثال وفا اور محبت کی مثال تھی۔ یہ ایک ایسے ہیرو اور جنگجو کی بھی کہانی ہے جس نے اسلام کی خاطر اپنی جان قربان کردی۔ وہ معصوم انسان نہیں تھے لیکن اس نے بہترین نمونہ ظاہر کیا جو ایک عاشق اور بندہ پیارے اہل بیت علیہم السلام کو پیش کر سکتا ہے۔ درود و سلام ہو امام حسین علیہ السلام کے خادم اور تمام مومنین کے آقا پر۔

سلام ہو تم پر یا عباس جس دن تم اس دنیا میں آئے، جس دن تم پیاس کی حالت میں شہید ہوئے اور جس دن تمہیں زندہ کیا جائے گا۔

آغا سیستانی تمام حالات سے پہلے ہی آگاہ تھے

آغا سیستانی تمام حالات سے پہلے ہی آگاہ تھے۔۔

آغا سیستانی تمام حالات سے پہلے ہی آگاہ تھے۔۔!

عراق میں جو کچھ ہو رہا ہے آغا سیستانی پہلے سے ہی ان کے بارے میں آگاہ تھے۔
اس کی دلیل۔

جب داعش کے خلاف عراقی عوام نے کامیابی حاصل کی تب کچھ بڑے علماء آغا سیستانی کو مبارکباد دینے آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ آغا کے چہرے پر کچھ غم اور پریشانی کے آثار ہیں۔
انہوں نے پوچھا: خیر ہے سید؟!
آغا سیستانی نے کہا: میری پریشانی ان حالات کے حوالے سے ہے جو اس کامیابی کے بعد آئیں گے۔ ہماری یہ کامیابی اس کامیابی کی طرح ہے جو میرزا شیرازی نے تمباکو والے فتوے میں (1891ء) حاصل کی تھی۔
علماء نے پوچھا: تنباکو والے واقعے میں کیا ہوا تھا؟
آغا سیستانی نے کہا: جب میرزا شیرازی نے تنباکو کی حرمت کا فتوی صادر کیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب برطانیہ نے ایران پر مکمل قبضہ کر لیا تھا، تب ان کے اس ایک فتوے کی وجہ سے ایران میں برطانوی حکومت گر گئی۔ اس فتوے کی وجہ سے برطانوی کمپنی دیوالیہ ہوگئی۔ یہ وہی کمپنی تھی جس کے بہانے سے برطانیہ نے ایران میں پاؤں جمائے تھے اور ایرانی اقتصاد اور حکومت کو اپنے قبضے میں لیا تھا۔
جب کچھ علماء اس تاریخی فتوے کے بعد میرزا شیرازی کو مبارکباد دینے گئے، جس طرح آج تم لوگ میرے پاس آئے ہو، تب انہوں نے میرزا کو دیکھا کہ وہ رو رہے تھے۔
علماء نے کہا: سیدنا! آپ کے فتوے نے کامیابی حاصل کی ہے۔۔ پس یہ رونا کیوں؟
انہوں نے کہا: وہ لوگ ہماری طاقت نہیں جانتے تھے۔
اب اس کامیابی کے بعد وہ اگلی جنگ کی تیاری کریں گے جس میں ہدف مرجعیت ہوگی۔ اب وہ مرجعیت پر تمہارا جو ایمان اور اعتماد ہے اسے چھیننے کی کوشش کریں گے۔ مگر یہ کہ تم لوگ اس بات کی طرف متوجہ رہو۔

یہاں آغا سیستانی نے کہا:
میری پریشانی آنے والے دنوں کے حوالے سے ہے۔ ہمارے اس (داعش کے خلاف دئیے) فتوے سے دشمن کو پتہ چل گیا کہ مرجعیت کیا ہوتی ہے اور اس کی کتنی طاقت ہے؟ پتہ چل گیا کہ عوام کس قدر مراجع کے ساتھ ہیں۔ اب یہ چھوٹی جنگ (داعش کے خلاف) ختم ہوجاتی ہے، اور بڑی جنگ شروع ہونے والی ہے۔ اس جنگ میں ہدف تمہاری مرجعیت ہوگی۔ دلوں میں مرجعیت کے خلاف شک ڈالا جائے گا۔ مرجعیت پر موجود تمہارے یقین اور اعتماد کو متزلزل کریں گے۔ اس کے بعد تمہیں توڑنا نہایت آسان ہوگا۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں تمام دنیا مرجعیت کے خلاف بات کر رہے ہیں۔

اللہ تعالی تمام مراجع عظام کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین

جعفرطیار: حسنین مسجد کے سامنے گرینڈ ڈکیتی، ڈاکو13 موبائل و نقدی لوٹ کر فرار

( جعفرطیار) جعفرطیار سوسائٹی ملیر میں ایک بار پھر ڈکیتی کی بڑی واردات ہوئی ہے، ڈاکو 13 موبائل فون چھن کر فرار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ رات  12:30بجے رات 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 ڈکیت حسنین مسجد اور عمران آٹوز والی گلی سے تقریباً 13 سے 14 موبائیل فونز اور کئی لڑکوں کے پرس اور نقدی لوٹ کر فرار ہوگئے ہیں۔

واقع کی اطلاع ملتے ہیں ایس ایچ ملیر سٹی چوہدری اسلم صاحب بھی پہنچ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ تقریبا د و ماہ قبل بھی اسی قسم کی واردات نادعلی سے غازی چوک آنے والی سڑک پر ہی رونماء ہوئی تھی، اس واردات میں بھی 16 سے زائد موبائل فون سمیت موٹر بائیک  چھین کر ڈاکو فرار ہوگئے تھے۔

اسٹریٹ کرائم قابو سے باہر ہوتے جارہے ہیں ، اس حؤالے سے اہل علاقہ شدید کرب کا شکار ہیں، اسی سلسلے میں جعفرطیار سوسائٹی کے اطراف میں سیکورٹی وال بنائی جارہی ہیں لیکن اس کے باوجود اسٹریٹ کرمنل بلا کسی خوف و خطر اپنی کاروائیوں میں مصروف ہیں۔

واضح رہے کہ چند ہفتوں قبل ہی سیکٹر کمانڈر ینجرز نے بھی جعفرطیار کا دورہ کیا تھا اور سیکورٹی ایشوز پر تعاون کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی

Credit: JTV

Pakistan And Iraq Sign Agreement To Boost Mutual Tourism

ISLAMABAD: Pakistan and Iraq have signed a memorandum of understanding to boost mutual tourism.

According to Foreign Office spokesman Asim Iftikhar, that memorandum of understanding was signed in the field of tourism in Baghdad on January 19, 2022.

The MoU was signed by the Iraqi Minister of Culture, Tourism and Antiquities and the Ambassador of Pakistan to the Republic of Iraq.

https://trendspak.com/pakistan-and-iraq-sign-agreement-to-boost-mutual-tourism/

ISLAMABAD: Pakistan and Iraq have signed a memorandum of understanding to boost mutual tourism.

According to Foreign Office spokesman Asim Iftikhar, that memorandum of understanding was signed in the field of tourism in Baghdad on January 19, 2022.

The MoU was signed by the Iraqi Minister of Culture, Tourism and Antiquities and the Ambassador of Pakistan to the Republic of Iraq.

Every year thousands of Pakistanis pilgrims visit Holy Shrines in cities of Karbala, Najaf and Qumm.

The MoU will boost cooperation between the two countries in the field of tourism.

Asim Iftikhar said that people-to-people ties between Pakistan and Iraq would be strengthened.

Pakistan is also working with the Iraqi side to facilitate Pakistani visitors to Iraq.

And Pakistan is committed to deepening and expanding its fraternal ties with the Republic of Iraq.

Credit: https://trendspak.com/pakistan-and-iraq-sign-agreement-to-boost-mutual-tourism/

Hacker group ‘Moses Staff’ leak new, sensitive Israeli military data

*Different hackers have launched various cyber attacks on Israeli military infrastructure*

An anonymous hacker group known as Moses Staff has hacked into Israel’s cybersecurity system, launching a large operation to release 22 TB of 3D (three-dimensional) files into the public domain in the early hours of 14 November.

The group announced that the new tranche of 3D files contain sensitive, militarily-relevant images from Israel.

The group issued a published statement, stating: “The international community is striving to ensure the safety of the criminal Zionist government. For instance, restricting access to aerial photos and maps is an effort to do this. However, we’ve been able to penetrate the cyber-infrastructure of the criminal Zionist government and access 22 TB 3D files of all Israel to an accuracy of 5cm. In addition, we have a little surprise for IDF in the video.”

These 3D images are used to create maps for training by the Israeli military.  The maps are also used by advanced armies across the world. The US military, for example, has created a 3D database, including battle maps for their operations.

Specialized mapping allows soldiers to train virtually for battles, viewing every detail on the ground, even the species of trees. The virtual reality experience in 3D mapping can also aid them in choosing alternate routes when trapped.

Moses Staff also released a video to show the level of access they have gained to Israel’s secret projects. The video shows part of the Ofek project, known as “The Broad Horizon” project.

Hacker group ‘Moses Staff’ leak new, sensitive Israeli military data
Different hackers have launched various cyber attacks on Israeli military infrastructure.

An anonymous hacker group known as Moses Staff has hacked into Israel’s cybersecurity system, launching a large operation to release 22 TB of 3D (three-dimensional) files into the public domain in the early hours of 14 November.

The group announced that the new tranche of 3D files contain sensitive, militarily-relevant images from Israel.

The group issued a published statement, stating: “The international community is striving to ensure the safety of the criminal Zionist government. For instance, restricting access to aerial photos and maps is an effort to do this. However, we’ve been able to penetrate the cyber-infrastructure of the criminal Zionist government and access 22 TB 3D files of all Israel to an accuracy of 5cm. In addition, we have a little surprise for IDF in the video.”

These 3D images are used to create maps for training by the Israeli military.  The maps are also used by advanced armies across the world. The US military, for example, has created a 3D database, including battle maps for their operations.

Specialized mapping allows soldiers to train virtually for battles, viewing every detail on the ground, even the species of trees. The virtual reality experience in 3D mapping can also aid them in choosing alternate routes when trapped.

Moses Staff also released a video to show the level of access they have gained to Israel’s secret projects. The video shows part of the Ofek project, known as “The Broad Horizon” project.

The Broad Horizon Project is carried out by the Israeli Defence Ministry to create a multidimensional base to deploy all the required units in the center of occupied Palestine, while carrying out simplification processes during implementation.

This is an open camp that mainly consists of office buildings next to service units. The project is a part of the approved bill in 2015 to decentralize the Israeli military.

Moses Staff says the real intention behind the hackings is to reveal the true nature of the “criminal Zionist government.”

They also leaked pictures of 16 Israeli military officers, with their names, real and cover identities, as well as ID numbers and phone numbers.

Reportedly, these officers serve in Unit 8200 of the army.

Cyberattacks against Israeli government and security institutions have spiked recently.  Another independent group called ‘Justice Palestine’ also just hacked the country’s cyber infrastructure, gaining access to former Mossad chief, Yossi Cohen’s phone number.

Cohen was the Israeli top agent who proposed the original plan to assassinate Iranian nuclear scientist, Mohsen Fakhrizadeh on 27 November 2020.

As reported by several media outlets, Cohen took the original plan to then-US President, Donald Trump, and then-CIA chief, Gina Haspel, briefing them about the assassination.

Justice Palestine posted Cohen’s phone number online, as well as the phone numbers of his daughter and her husband.

Israelis have not yet commented on these attacks. Reports indicate that Israeli officials have issued an unofficial gag order to play down the cyber attacks and contain the leaks.

Credits: image, video and post copy on thecradle.co

انجمن جعفر طیار کا منعقد کردہ جلوس داخلہ مدینہ 8 ربیع اول کی 1984 کی کچھ یادگار تصاویر

انجمن جعفر طیار کا منعقد کردہ جلوس داخلہ مدینہ 8 ربیع اول
کی 1984 کی کچھ یادگار تصاویر

جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مرکزی امام بارگاہ کی تعمیر کا آغاذ نہیں ہوا ہے،
جبکہ غازی چوک کے اطراف بھی زیادہ آبادی نظر نہیں آرہی ہے۔

مومنین کا ایک ہجوم ہے جو جلوس کی زیارت کیلیے موجود ہے۔

جعفرطیار میں عزاداری کی روشن تاریخ

مرکزی امام بارگاہ
انجمن جعفر طیار
جلوس داخلہ مدینہ 8 ربیع اول
جلوس داخلہ مدینہ 8 ربیع اول
جلوس داخلہ مدینہ 8 ربیع اول
جلوس داخلہ مدینہ 8 ربیع اول

سید ابوجعفر زیدی۔ بانی قائمیہ امام بارگاہ ملیر

*حقیقی عزادار*
*(سید ابوجعفر زیدی۔ بانی قائمیہ امام بارگاہ ملیر )*

جب پاکستان معرض وجود میں آیا۔ تو متحدہ ہندوستان میں کام کرنے والے مسلمان سرکاری ملازمین کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ چاہیں تو پاکستان چلے جائیں اور چاہیں تو ہندوستان میں رہیں۔ لیکن مسلمان سرکاری ملازمین کی اکثریت نے پاکستان جانے کو فوقیت دی۔ انہی ملازمین میں سید ابو جعفر عطا زیدی بھی شامل تھے جو کہ ریلوے میں ملازم تھے۔آپ کے والد ہاتھرس کے ریلوے اسٹیشن کے اسٹیشن ماسٹر تھے۔ جب کہ آپ کے دادا ریاست اودھ میں وزیر مالیات تھے۔ تاہم اصل وطن آپ کا ترکیاواس تھا جہاں آپ کی ایک بڑی جائیداد موجود تھی مگر نواب شجاع الدولہ(1775- 1754) کے دور حکومت میں وزیر مالیات ہونے کی وجہ سے آپ نے اپنی حویلی صفی پور میں بنا لی تھی ۔ آپ کے خاندان کے 7 بزرگ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی لڑنے کے جرم میں پھانسی چڑھائے گئے تھے۔


پاکستان آنے کے جوش میں گھر کا ضروری سامان ہی لیا جس میں آپ نے اپنے امام بارگاہ کا سامان بھی رکھ لیا تاکہ پاکستان میں بھی اپنے شہر صفی پور جیسی عزاداری کی جا سکے۔ پاکستان آنے کے ساتھ ہی جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہوا وہ رہائش کا تھا۔ بڑی مشکلوں سے کھارادر کے بڑے امام بارگاہ سے بالکل متصل ایک فلیٹ میں رہائش مل گئی جس میں خاندان کے دیگر افراد بھی رہائش پذیر ہوئے۔ ابھی سر چھپانے کے لیے آسرا ہی ملا تھا کہ کچھ مہینوں بعد کھارادر کی مسجد والوں نے آپ سے درخواست کی کہ ہم لوگ مسجد کی مزید توسیع کر رہے ہیں اس میں اگر آپ اپنے مکان کو بھی دے دیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔ یوں آپ نے مسجد والوں سے وعدہ کر لیا کہ ہم نیا مکان تلاش کرتے ہیں جیسے ہی مل گیا آپ کو یہ مکان دے جائیں گے۔ کچھ ہی عرصے میں آپ کے چھوٹے بھائی کاظم زیدی کو ملیر سٹی میں ایک مکان مل گیا۔ اور یوں 1948 میں آپ اپنے خاندان کے ہمراہ ملیر سٹی آگئے۔ یہ جگہ ملیر مندر نامی ایک علاقہ تھا جہاں پر ایک بہت بڑے ہندو سیٹھ دولت رام کی حویلی تھی جو دولت رام بلڈنگ کے نام سے آج بھی مشہور ہے۔ اس بلڈنگ کے مختلف حصوں میں دہلی سے آئے ہوئے بہت سے انتہائی وضع دار خاندان آباد تھے۔ جب کہ ایک حصہ خالی تھا جس میں آپ کا خاندان آکر آباد ہو گیا۔ ہندو سیٹ دولت رام خود تو ہندوستان چلا گیا تھا مگر اپنے ایک نوکر کو وہیں پر چھوڑ گیا تھا۔ کچھ دنوں بعد نوکر کو سیٹھ کا پیغام آیا کہ تم بھی ہندوستان چلے آؤ کیونکہ ہمیں اس حویلی سے بھی زیادہ بڑی سجی سجائی مسلمانوں کی حویلی کلیم میں مل گئی ہے۔ دولت رام بلڈنگ میں سکونت اختیار کرنے کے تھوڑے ہی دنوں بعد محرم آگئے۔ آپ نے پہلے ایک مجلس کرنے کا پروگرام بنایا لیکن مسلہ یہ درپیش تھا کہ مجلس تو ہو جائے لیکن لوگ کہاں سے آئیں گے۔ اس سلسلے میں آپ اپنی ساس اور آپنی بھانجی کے ہمراہ پورے علاقے کا دورہ کرنے کے لئے نکلے کے کہیں کوئی مومن عزادار کا گھر مل جائے۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے آخر ایک ایسے گھر پہنچ ہی گئے کہ جس کے خدوخال اور لوگوں کی شکلوں سے اپنائیت جھلک رہی تھی۔ یہ مکان سید ضمیر حسین زیدی صاحب کا تھا۔ جو اپنے پورے کنبے کے ساتھ یہاں قیام پذیر تھے اور اپنا ایک چھوٹا سا امام بارگاہ بھی بنایا ہوا تھا جس کا نام حسینی امام بارگاہ تھا۔ یوں ان دونوں خاندانوں کی دوستی ہوگئی جو آج تک پہلے دن کی طرح قائم و دائم ہے۔ سارے لوگ خوشی خوشی گھر پہنچے اور بقیہ لوگوں کو مومنین کے ملنے کی خوشخبری سنائی اور فوری طور پر مجلس کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ مجلس میں تبرک کے طور پر کھیر کے پیالے بانٹے۔ مگر لوگ اندازے سے کم تھے اس لیے تبرک بچ گیا جسے فوری طور پر آپ کھارادر لے گئے اور وہاں پر مومنین میں بانٹ کر واپس آگئے۔


1949 میں باقاعدہ امام بارگاہ بنا لیا اور اپنے صفی پور کہ امام بارگاہ کے نام پر قائمیہ امام بارگاہ رکھا۔ انہی دنوں میں کچھ لوگوں نے تھانے میں امام بارگاہ کے خلاف درخواست دے دی ۔ تھانے دار گھر آگیا اور آپ کی اہلیہ کو بول کر گیا کہ شام کو جب آپ کے شوہر آئیں تو انہیں تھانے بھیج دیجئے گا۔ شام کو جب آپ تھانے گئے تو تھانے دار نے آپ کو کہا کہ میں نے اپنے پاس امام بارگاہ کے نام کی انٹری کر لی ہے اب آپ کو کوئی تنگ نہیں کرے گا اور کہا ” جو تم ہو وہی میں ہوں ” میرے ہوتے ہوئے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔
1950 میں جب محرم شروع ہوئے تو باقاعدہ عشرہ مجالس شروع کیا گیا۔ 7 محرم کو آپ کے چھوٹے بھائی کاظم زیدی نے کہا کہ میں جلوس نکالوں گا اور کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر علم لے کر نکل گئے۔ اس وقت کیونکہ محمدی ڈیرہ نہیں بنا تھا اس لیے وہ ملیر15 سے علم کو گھما کر واپس قائمیہ امام بارگاہ لے آئے۔ جب سے آج تک یہ جلوس 7 محرم کو برآمد ہوتا ہے اور اس جلوس کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ہندوستان کے شہر ترکیاواس کی عزاداری کا مکمل کلچر موجود ہوتا ہے۔ اور ترکیاواس کے رہنے والے کراچی میں جہاں جہاں ہیں وہ اس جلوس میں ضرور پہنچتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کراچی میں ترکیاواس کے لوگوں کا مرکزی جلوس ہے۔
8 محرم کو حسینی امام بارگاہ سے جلوس برآمد ہونے لگا اور وہ بھی اسی طرح سے گشت کرتا ہوا واپس آتا لیکن جب محمدی ڈیرہ بنا تو یہ محمدی ڈیرہ کے ایک مکان کے اندر موجود امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔
10 محرم کو صبح دونوں امام بارگاہوں سے تعزیے نکلتے اور ملیر ندی کی طرف جاتے اور ندی میں ان کو دفن کر کے آتے تھے۔ محمدی ڈیرہ بننے کے بعد سے یہ تعزیے محمدی ڈیرہ کی مسجد میں جا کر ٹھنڈے کیے جاتے ہیں۔
ابھی کچھ عرصہ ہی گزرا تھا کہ ایک اور مصیبت سر پر آگئی آپ نے جو اپنا کلیم جمع کرایا تھا وہ مسترد ہو گیا۔ کیوں کہ آپ کے والد انڈیا میں موجود تھے اور ساری جائیداد انہی کے پاس تھی۔ جب کہ قانون یہ تھا کہ جس کے والدین انڈیا میں ہی ہیں ان کو کلیم نہیں ملے گا۔ اور یوں جو مکان دولت رام بلڈنگ میں آپ کے پاس تھا۔ کسی اور کے کلیم میں نکل گیا۔ اب وہ شخص بار بار آتا اور کہتا کہ اپنا سامان یہاں سے اٹھاؤ۔ آپ کے لیے بہت مشکل وقت تھا کیوں کہ امام بارگاہ کی وجہ سے مکان چھوڑنا نہیں چاہ رہے تھے اور نہ ہی اتنا پیسہ تھا کہ آپ مکان کے اصل مالک سے اس کو خرید سکیں۔ آخر کار آپ نے اپنے عزیز اور جاننے والوں سے قرضہ لے کر اس مکان کو خرید لیا۔
1956 میں جب امامیہ امام بارگاہ ایف ساؤتھ بنا تو وہاں کے کچھ لوگ جن میں سامن حسین زیدی، علی حسن زیدی اور اختر حسین زیدی شامل تھے آپ کے پاس آئے اور بتایا کہ ہم ایک جلوس امامیہ امام بارگاہ سے نکال کر آپ کے امام بارگاہ میں ختم کرنا چاہتے ہیں جس کا آپ نے بھرپور خیر مقدم کیا اور طے پایا کہ ہر سال 5 محرم کو امامیہ امام بارگاہ سے جلوس برآمد ہوگا جو قائمیہ امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوگا اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
جب محمدی ڈیرہ وجود میں آیا تو پھر وہاں کے لوگوں نے بھی ایک جلوس ربیع الاول کی پہلے جمعہ کو نکالنا شروع کیا جو قائمیہ امام بارگاہ پر آ کر اختتام پذیر ہوتا ہے یہ جلوس انجمن ظفر الایمان نکالتی ہے۔


آپ کا عزاداری سے لگاؤ اس حد تک تھا کہ اس زمانے میں ہر مہینے چینی ایک کوٹے کے تحت ملتی تھی۔ مگر آپ کے گھر والے پورے سال گڑ کی چائے پیتے اور کبھی بھی چینی استعمال نہیں کرتے تاکہ جب جلوسوں کے اختتام پر عزادار پہنچیں تو ان کو چینی والی چائے پلائی جائے۔
1971 میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ آپ کے انتقال کے بعد جو محرم آئے تو اس میں امامیہ امام بارگاہ والے اور محمدی ڈیرے والے آپ کے گھر تشریف لائے اور آپ کی اہلیہ سے گزارش کی کہ آپ کے بچے ابھی بہت چھوٹے ہیں مگر آپ جلوس کا پرمنٹ کینسل نہ کیجیے گا سارے انتظامات ہم سنبھال لیں گے۔ ان کی اہلیہ نے کہا کہ ان کی وصیت ہے ہم ہر حال میں عزاداری کو قائم رکھیں گے۔ ان کی اہلیہ اور بچوں نے انتہائی مشکل حالات میں عزاداری کو قائم رکھا اور انتہائی کم عمر میں یتیم ہونے کے باوجود اپنے والد کی بتائی ہوئی راہ سے ایک لمحے کے لئے بھی روگردانی نہیں کی۔
آپ کو صرف عزاداری سے عشق ہی نہیں تھا بلکہ آپ امام حسین کے سچے عاشق تھے اور ہر حال میں سچ بولنا اور مشکل سے مشکل حالات میں انصاف اور ایمانداری سے کام کرنا آپ کا خاصا تھا۔ انہی خصوصیات کے ساتھ آپ پورے ریلوے میں مشہور تھے۔
آپ کی اہلیہ کی عزاداری سے محبت کا یہ عالم تھا کہ کسی بھی کپڑے پر نظر پڑتی تو پہلے انکے دماغ میں یہ آتا کے اس کپڑے سے علم کا پھریرا بہت اچھا بنے گا۔ آپ کے بچوں اور اہلیہ کے اخلاق کی وجہ سے مکمل اہل سنت آبادی میں اکیلا امام بارگاہ ہونے کے باوجود سارا محلہ انتہائی عزت و احترام سے پیش آتا ہے۔ یہاں تک کہ جب آپ کی اہلیہ کا 2008 میں انتقال ہوا تو محلے والوں کے انتہائی اصرار پر نماز جنازہ جعفرطیار یا محمدی ڈیرہ میں ہونے کے بجائے محلے کے گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ جس میں اہل سنت آبادی کی بہت بڑی تعداد شامل ہوئی۔ یہاں تک کہ محلے کے وہ لوگ جو بیس پچیس سال پہلے اس علاقے کو چھوڑ گئے تھے وہ بھی آپ کے انتقال کی خبر سن کر نماز جنازہ میں شریک ہونے کے لیے پہنچے ایک انسان کی عظمت اس سے زیادہ کیا ہوسکتی ہے کے اس کے جنازے میں اتنی بڑی تعداد میں لوگ شامل ہوں اور وہ بھی دوسرے فرقے کے اور یہی انسان کی زندگی کا کمال ہے جو مرحومہ نے حاصل کیا اپنے بہترین اخلاق سے۔ آپ کے بچوں کے بھی اخلاق کا عالم یہ ہے کہ 7 محرم کو نکلنے والا جلوس اتحاد بین المسلمین کا ایک بہترین نمونہ ہے۔
جلوس جب نیشنل ہائی وے سے اتر کر مندر کے علاقے میں واپس داخل ہوتا ہے تو ایک جگہ بلوچوں کے محلے سے نکل کر چٹائی گراؤنڈ میں آتا ہے۔ ایک سال بلوچوں کے محلے میں گٹر بری طرح سے ابلے ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے مجبوراً جلوس کو ایک گلی پہلے موڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔ عین جلوس اس جگہ پہنچنے سے پہلے اس محلے کے لوگ آپ کے بڑے بیٹے کے پاس آئے اور کہا کہ سنا ہے کہ جلوس ہمارے محلے سے نہیں گزرے گا۔ تو انہوں نے گٹر کے پانی کی وجہ بتائی۔ یہ لوگ ان کو اپنے ساتھ محلے میں لے آئے جہاں گٹر کا پانی کہیں بھی نہیں تھا۔ دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ ان لوگوں نے سارا پانی اپنے اپنے گھروں میں داخل کرلیا تھا اور روڈ کو صاف کر دیا تھا۔ جیسے ہی جلوس گزر گیا سب نے اپنے اپنے گھر سے دوبارہ گندے پانی کو باہر نکالنا شروع کر دیا۔ پیار محبت اور رواداری کی ایسی مثال شاید ہی کہیں اور ملے۔
تحریر و تحقیق
پروفیسر سید علی عمران

جعفرطیار : پراسرار آدمی کاخواتین کو ہراساں کرنے کی اطلاعات، اہل علاقہ محتاط رہیں

 جعفرطیار سوسائٹی میں ایک نامعلوم شخص کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

Content JTV

تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز جعفرطیار سوسائٹی کے مختلف واٹس اپ گروپ پر ایک وائس نوٹ جاری ہوا جس میں ایک خاتون نے بتایا کہ مرکزی امام بارگاہ کے پیچھے والی گلی نوچندی علم اسٹریٹ کے قریب ایک شخص نے متاثرہ خاتوں کو کسی گھر میں بہانے سے داخل کرکے ہراساں کرنے کی کوشیش کی بعدازاں خاتون نے چالاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کی اور چندنوجوانوں کو جمع کرلیا جسکے بعد وہ شخص فرار ہوگیا، اس موقع پر پہنچنے والے ایک اسکاوٹ کے جوان واقعہ کی تصدیق بھی کی ہے۔

دوسری جانب وائس نوٹ کی کنفرمیشن کے لئے جب ہمارے نمائندے نے تحقیقات کی تو جے ٹی وی کو سوشل میڈیا پرکچھ مزید میسج موصول ہوئے جس میں یہ انکشاف ہو ا کہ ایسے واقعات گذشتہ کئی سالوں سے ہورہے ہیں،ذرائع نے جے ٹی وی کو بتایا کہ عون و محمد اسٹریٹ 5، غازی چوک اور وکٹری گراونڈ کی طرف بھی ایسی ہی حرکت کچھ مزید نوجوان خواتین کے ساتھ کرنے کی کوشیش کی گئی ، شور شرابہ ہونے کی وجہ سے وہ شخص فرار ہوگیا۔

سوشل میڈیا پر پھیلی اس خبر کی وجہ سے اہل علاقہ میں تشویش پائی جارہی ہے ، جبکہ عدم تحفظ کا احساس بھی شد ت سے پایا جارہا ہے۔

یہ دھیان بھی رہے کہ سوسائٹی میں آئے دن اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں کی خبریں بھی رپورٹ ہورہی ہیں، ان اسٹریٹ کرمنلز کا نشانہ زیادہ تر صبح سویرے آفس یا کالج و یونیورسٹی جانے والے رہائشی بنتے ہیں۔

اسطرح کے واقعات جہاں سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں وہیں جعفرطیار جیسی پرائیویٹ سوسائٹی میں موثرسیکورٹی نظام نا ہونا بھی باعث تشویش ہے۔

لہذا اسطرح کے حالات میں اہل علاقہ کی ذمہ داری بنتی ہے وہ از خود ارد گرد کے ماحول پر نظر رکھیں۔

دوسری جانب خواتین خصوصاً نوجوان مومنات سے گذارش ہے کہ کسی بھی نامحرم یا انجان کے کہنے یا بلانے کی کوشیش کرنے پر اردگرد موجود اہل علاقہ کو فوراً متوجہ کرنے کی کوشیش کریں تاکہ ایسے افراد کو پکڑا جاسکے۔

جبکہ سیکورٹی یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی ذمہ داری ہے اسٹریٹ کرمنلز اور ایسی مشکوک حرکت کرنے والے عناصر کی سرکوبی کرنے کے لئے اپنی کوشیشوں کو تیز کرکے اہل علاقہ کے عدم تحفظ کی کیفیت اور بے چینی کو دور کریں ۔

جعفر طیار کی عزاداری اور اس کی تاریخ پر ایک نظر

قیام پاکستان کے تین مہینے بعد ہی محرم آگئے۔ کراچی میں ہندوستان سے آئے ہوئے لٹے پٹے مہاجرین کے جن کی چپلیں تک ہندوستان کے بارڈر پر ہندوستان کی سیکیورٹی فورسز نے یہ کہہ کر اتروالیں تھیں کہ تم اپنے پاکستان بغیر چپلوں کے جاؤ گے۔ اس وقت ان کی اکثریت کیمپوں میں اور جھگیوں میں تھی۔ ایام عزا کے آتے ہی وہ غم حسین منانے کے لیے تڑپ رہے تھے مگر ان کے پاس کوئی اسباب نہیں تھے۔ مگر وہ نڈر اور بہادر لوگ جنہوں نے ہندوں کے منہ سے پاکستان نکال کر دکھایا تھا ہمت نہ ہاری اور ان لٹے پٹے افراد نے یوم عاشور پر علم بنانے کے لیے کچھ نہیں تھا مگر دوپٹوں سے پھریرے بناکر بانس پر لگائے اور جلوس نکال کر کھڑے ہوگئے۔ اپنی تمام تر پریشانیوں اور غربت کو ایک طرف رکھ کر شان و شوکت کے ساتھ جلوس نکالا اور کھارادر کے بڑے امام بارگاہ لے آئے۔ مگر کچھ وجوہات کی بنا پر جلوس ایرانیان کی طرف آ گیا۔ جب جلوس ایرانیان کی طرف آ رہا تھا تو ایرانیان کے محلے کا وہ فرد جس نے ایرانیان میں جلوس کو ختم کرنے کی تجویز دی تھی۔ جلوس سے آگے آگے بھاگتا ہوا اپنے محلے میں پہنچا اور ایک بڑے جلوس کے آنے کی اطلاع دی۔ کیونکہ اس زمانے میں ایرانیوں کی بیکریاں ہوا کرتی تھیں سارے بیکری والے اپنی بیکریوں کی طرف بھاگے اور جتنے بھی دستیاب بند تھے سب لے کر آگئے۔ پورا محلہ جلوس کے استقبال کے لئے کھڑا ہو گیا۔
جلوس میں بٹنے والا یہ بند پورے جلوس کا یہ واحد تبرک تھا جو پورے راستے میں تبرک کے طور پر شرکاء جلوس کو ملا۔

جس خلوص سے مہاجرین نے عزاداری کو منعقد کیا اللہ تعالی کو یہ انداز اتنا پسند آیا کہ آج پورے برصغیر کے ہر علاقے کی عزاداری کا رنگ کراچی کی عزاداری میں موجود ہے۔ یہاں تک کہ پوری دنیا میں جہاں جہاں عزاداری شروع ہوئی وہاں وہاں کراچی کی عزاداری کا رنگ نمایاں ہے اور جس جلوس میں صرف ایک بند تبرک کے طور پر بٹا آج اس جلوس میں کروڑوں روپے کے تبرکات بٹتے ہیں اور کراچی کا مرکزی جلوس ہمیشہ کے لئے ایرانیان ہال سے وابستہ ہو گیا اور اس جلوس کی شان و شوکت پوری دنیا میں مانی جاتی ہے۔

جعفر طیار کی تاریخ

جیسے جیسے کراچی کی آبادی بڑھتی گئی عزاداری بھی پورے شہر کی مختلف آبادیوں میں پھیلتی گئی۔ انہی آبادیوں میں ایک جعفر طیار سوسائٹی بھی ہے۔ جعفر طیار سوسائٹی ضلع ملیر میں واقع ہے اور اس کی آبادی اب تقریبا 60 ہزار سے زیادہ ہے۔ جس میں حسنین، عمار یاسر، غازی ٹاون، اور باغ اسد وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یہ پوری آبادی مومنین پر مشتمل ہے اور اب باقاعدہ ضلع ملیر کی ایک یونین کونسل ہے۔
ملیر کیوں کہ ایک زرعی علاقہ تھا مگر اس کا پورا انحصار بارشوں پر تھا۔ جیسے جیسے بارشوں میں کمی آتی گئی پانی کے مسائل بڑھتے رہے اور نتیجتا کاشتکار زمین چھوڑ کر پیچھے ہوتے چلے گئے۔ یوں یہ خالی زمین کاشتکاروں نے فروخت کرنا شروع کر دی۔ جعفر طیار بھی پہلے کھیتوں پر ھی مشتمل تھا جب کھیت ختم ہوئے تو اسے 1969 میں ایک سرمایہ دار حیدر علی مولجی نے خرید لیا اور یہاں مومنین کے لیے پلاٹنگ شروع کردی۔ ابتدا میں 200 گز کا پلاٹ 2000 روپے کا اور 96 گز کا پلاٹ 1000 روپے کا فروخت کیا گیا۔ یوں دھیرے دھیرے آبادی بڑھنے لگی یہاں پہلا مکان جنگل والی خالہ کا تھا جن کا نام اس جنگل میں رہنے کی وجہ سے جنگل والی خالا پڑ گیا تھا۔ یہ وہی تین منزلہ مکان تھا جو مرکزی کے سامنے موجود تھا اور 2019 میں گر گیا تھا۔جعفر طیار کی آبادی کا پھیلاؤ ایف ساؤتھ سے ملحقہ سروے جیسے 640، 627 اور 552 وغیرہ سے شروع ہوا اور بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھا کہ آج جعفر طیار ضلع ملیر کی ایک یونین کونسل ہے۔

عزاداری کا آغاز

جعفر طیار کی عزاداری کی تاریخ بیان کرنے میں اگر ایف ساوتھ کے مومنین کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ نا انصافی ہوگی۔ جعفر طیار میں عزاداری جعفرطیار کے بننے سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ کیونکہ جعفر طیار سے ملحقہ آبادی ایف ساوتھ بن چکی تھی۔ یہاں پر مقیم مومنین کو مسجد اور امام بارگاہ کی اشد ضرورت تھی۔ ان لوگوں نے موجودہ جعفر طیار سوسائٹی کے سروے نمبر 640 کے اندر جو کہ ایف ساؤتھ سے ملا ہوا تھا اور مکمل جنگل تھا 1956 میں زمین کا ٹکڑا حاصل کرلیا۔ مگر کچھ لوگوں کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی اور انھوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا کہ کسی طرح امام بارگاہ نہ بنے۔ یہاں تک کہ صبح سے شام تک دیوار بنتی اور رات کو کوئی گرا کر چلا جاتا۔ ایسی حالت میں 12 افراد نے اپنی ایسی استقامت دکھائی کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان افراد میں اظہار الحسن رضوی (دروغاجی) علی حسن زیدی وغیرہ پیش پیش تھے۔ جب کافی دفعہ دیوار گرنے کا واقعہ ہو گیا تو انہی 12 افراد نے جن میں اظہار الحسن رضوی جو ایک بارعب آدمی تھے سب کی ڈیوٹی لگائی کہ جب تک امام بارگاہ کی تعمیر ہوتی رہے گی تب تک سارے افراد باری باری اپنی چارپائی امام بارگاہ کے پاس ڈال کر سویں گے۔ یوں روز ایک آدمی رات میں امام بارگاہ میں پہرا دیتا اور وہیں سوتا۔ اس طرح سے امامیہ مسجد اور امام بارگاہ کی تعمیر مکمل ہوئی اور وہاں مسجد میں نماز
شروع ہوگئی۔

امام بارگاہ کی تعمیر کے بعد جب پہلا محرم آیا تو امام بارگاہ میں باقاعدہ پورے ایام عزا خواتین اور مردوں کی مجالس کا سلسلہ چلتا رہا اور اس کے علاوہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ 2 جلوس نکالے جائیں گے ایک حسینی سفارت خانے کی طرف اور دوسرا نیشنل ہائی وے سے ہوتا ہوا ملیر مندر کے علاقے میں موجود قائمیہ امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوگا۔

جعفر طیار کی مساجد اور امام بارگاہ

1۔ امامیہ مسجد و امام بارگاہ

یہ جعفر طیار کا سب سے قدیم مسجد و امام بارگاہ ہے جو 1956 میں تعمیر ہوا۔ اس کی پوری تفصیل ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں۔

2۔ حسنین مسجد

حسنین مسجد بھی جعفر طیار میں پرانی مساجد میں سے ایک ہے اور اس کی تعمیر 1970 کے عشرے کے اوائل میں ہوئی۔ یہ صرف مسجد ہے اس میں براہ راست کوئی اور امام بارگاہ کی بلڈنگ نہیں ہے تاہم یہاں ایام عزا میں مجالس کا سلسلہ زور و شور کے ساتھ ہوتا ہے۔ ماضی میں کئی بڑے بڑے پروگرام بھی حسنین مسجد میں ہوئے مگر کبھی تسلسل باقی نہ رہ سکا۔
3۔ مرکزی مسجد اور امام بارگاہ

مرکزی مسجد و امام بارگاہ کا صرف نام ہی مرکزی نہیں بلکہ یہ مسجد اور امام بارگاہ خود جعفر طیار میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایام عزا کے تمام بڑے پروگرام اور عید کی نماز کے بڑے اجتماع یہیں ہوتے ہیں۔ مرکزی امام بارگاہ کی انتہائی خوبصورت عمارت ہے اور ایک بہت بڑا ہال ہے۔ مرکزی امام بارگاہ کی عمارت اب جعفر طیار کی پہچان بن گئی ہے۔ جب مرکزی امام بارگاہ اور مسجد بنی تو اس کا انتظام انجمن جعفریہ کے کنٹرول میں تھا۔ 1982 میں مرکزی مسجد اور امام بارگاہ کو چلانے کے لیے باقاعدہ ٹرسٹ بنی جس کا نام غازی عباس رکھا گیا۔ جس کو بنانے میں حسن عباس زیدی مقداد جعفری اور ڈاکٹر شفاعت وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

4۔ مسجد خدیجۃ الکبرہ و امام بارگاہ سلمان فارسی

417 جعفر طیار کا ایک کٹا ہوا سروے ہے جس کے مکین بہت فاصلہ طے کر کے نماز کی غرض سے امامیہ یا مرکزی مسجد پہنچتے تھے۔ اب وہاں 2000 کے عشرے کے آخر میں دو الگ الگ عمارتیں امام بارگاہ سلمان فارسی اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے نام سے بنا لی گئی ہیں۔

5۔ باب الحوائج

غازی ٹاؤن میں جیسے جیسے مومنین کی آبادی بڑھتی گئی وہاں بھی مسجد و امام بارگاہ کی ضرورت محسوس کی جانے لگی اوریوں 1990 کے عشرے کے آخر میں مسجد و امام بارگاہ باب الحوائج کی تعمیر ہوگئی۔

6۔ دیگر امام بارگاہ

جعفر طیار میں بے شمار مزید چھوٹے چھوٹے امام بارگاہ اور بھی موجود ہیں۔ جن میں زیدیہ امام بارگاہ، درگاہ العباس، مسجد زہرا اور عزت مرحوم کا امام بارگاہ قابل ذکر ہیں۔

ایام عزا کا عشرہ اولا

محرم کے آنے سے دو تین دن پہلے ہی جعفر طیار کا ماحول سوگوار ہو جاتا ہے۔ ہر طرف محرم کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ محرم کا چاند دیکھتے ہی ہر طرف کالے پرچم لگا دیے جاتے ہیں اور عزاخانے سجادیے جاتے ہیں۔ صبح سے لے کر شام تک خواتین کے عشرے ہوتے ہیں جو تقریبا 300 سے زیادہ ہوتے ہیں۔ شام سے مردوں کی مجالس بھی شروع ہو جاتی ہیں جو رات گئے تک جاری رہتی ہیں۔ ہر طرف مجمع ہوتا ہے کہیں کوئی مجلس سے آ رہا ہوتا ہے تو کہیں کوئی مجلس میں جا رہا ہوتا ہے۔ مرکزی امام بارگاہ سے منسلک مرکزی روڈ پر لائن سے اسٹال لگے ہوتے ہیں جن میں بڑی بڑی سبیلوں کا انتظام کیا جاتا ہے جو مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے ہوتا ہے اس کے علاوہ اسلامی کتب کے بھی اسٹال لگے ہوتے ہیں۔ ہر طرف نوحوں کی زور دار آوازیں آ رہی ہوتیں ہیں جو صرف مرکزی میں مجلس کے وقت ہی ختم ہوتی ہیں۔ مرکزی روڈ پر ایک عجیب ماحول ہوتا ہے جو کہ لکھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔
عاشور تک کے عشرے

1۔ تحریک جعفریہ کا عشرہ

یہ عشرہ مرکزی امام بارگاہ میں ہوتا ہے اور 1983 سے آج تک منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ شام کے وقت شروع ہوتا ہے اور مغرب کی اذان سے پہلے ختم ہوتا ہے اس عشرے کی خاص بات یہ ہے کہ جس نے بھی تحریک جعفریہ کے اس ممبر پر خطاب کرنے کی سعادت حاصل کی وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچا۔ جیسے مولانا جان علی شاہ کاظمی، مولانا حسن ظفر نقوی، مولانا سجاد دہلوی اور مولانا ناظر تقوی وغیرہ ۔

2۔ محبان عزا کا عشرہ

یہ جعفر طیار کا سب سے بڑا عشرہ ہوتا ہے جو مرکزی امام بارگاہ میں 1994 سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ پہلی مرتبہ یہ عشرہ صبح 7 بجے منعقد ہوا جس میں مولانا عبدالحکیم بوترابی نے خطاب کیا ۔ دوسری مرتبہ یہ رات میں گیارہ بجے ہونے لگا اور آج تک گیارہ بجے ہی ہوتا ہے۔ اس عشرے میں 1995 سے لیکر اپنی وفات تک مولانا عرفان حیدر عابدی نے خطاب کیا ان کے بعد سے اب تک ہر سال بڑے بڑے ذاکرین اس عشرے سے خطاب کرتے آئے ہیں اور اس عشرے میں ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے۔

3۔ بزم فاطمہ کا عشرہ

یہ عشرہ بھی مرکزی امام بارگاہ میں ہی منعقد ہوتا ہے جو فورا بعد نماز مغربین شروع ہو جاتا ہے۔ اس عشرے کو آج سے 7 سال پہلے شروع کیا گیا۔ پہلے عشرے میں خطاب مولانا ذکی باقری نے کیا جس میں عزاداروں کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر تھا۔

4۔ دیگر عشرے

اس کے علاوہ بھی کچھ بڑے عشرے ہوتے ہیں جن میں پیام ولایت کا حسنین مسجد کا عشرہ، انجمن العباس کا امامیہ امام بارگاہ کا عشرہ، درگاہ باب الحوائج کا عشرہ اور سچے بھائی کے ہاں کا صبح کا قدیمی عشرہ قابل ذکر ہیں۔

عاشور تک کے مرکزی پروگرام

پہلی محرم سے 4 محرم تک جعفر طیار والے صرف مجالس میں شریک ہوتے ہیں اور جناب سیدہ کو ان کے مظلوم لال کا پرسہ دیتے ہیں۔ 5 محرم سے مخصوص پروگرام شروع ہو جاتے ہیں

1۔ پانچ محرم کا جلوس

5 محرم کو امامیہ امام بارگاہ جعفر طیار سے ایک قدیمی جلوس برآمد ہوتا ہے جو کوئی لگ بھگ 1956 سے نکالا جا رہا ہے۔ جو اپنے مقررہ راستوں جناح اسکوائر اور محمدی ڈیرہ سے ہوتا ہوا قائمیہ امام بارگاہ ملیر مندر میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ جعفر طیار کا سب سے طویل فاصلے کا جلوس ہوتا ہے۔ اس جلوس میں بڑے پیمانے پر جوان شریک ہوتے ہیں جو قائمیہ امام بارگاہ پر جلوس کو ختم کرکے پھر پیدل پیدل پیچھے سے جعفرطیار میں واپس آتے ہیں۔ جب یہ جلوس شروع ہوا تھا تو جعفر طیار خود ایک کھیت تھا۔ جلوس کے اختتام پر جو گیس لائٹیں جلوس میں چلتی تھیں ان کو ہی پکڑ کر ایک آدمی آگے آگے چلتا تھا اور باقی سارے لائن سے اس کے پیچھے چلتے ہوئے کھیتوں کے اندر سے ہوتے ہوئے امامیہ امام بارگاہ واپس آتے تھے۔

2۔ چھ محرم کا اہلیان شکار پور کا جلوس

جعفر طیار میں ہندوستان کے شہر شکارپور کے رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے جو اپنے شکارپور کے کلچر کے مطابق 6 محرم کو مخصوص جلوس نکالتے ہیں جس میں پورے کراچی کے شکارپور کے افراد شریک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف جعفرطیار کی بھی ایک بڑی تعداد اس میں شامل ہوتی ہے جس میں شکارپور کے افراد اپنے مخصوص انداز میں تابوت نکال کر ماتم داری کرتے ہیں ان کی ماتم داری کا انداز بہت مختلف ہوتا ہے۔

3۔ سات اور 8 محرم کے جلوس

شروع میں تو 7 محرم کی مناسبت سے حضرت قاسم کی مہندی نکلا کرتی تھی جس کا رواج اب کم ہوگیا ہے اور صرف ایک مرکزی طور پر محبان عزا کی مجلس کے اختتام پر نکلتی ہے۔ لیکن 7 اور 8 محرم کو چھوٹے عزاخانوں سے بہت سارے جلوس نکلتے ہیں۔ خاص طور پر 8 محرم کو تو بےشمار جلوس نکلتے تھے جن کو اب منظم کر لیا گیا ہے اور رات کو ایک جلوس نکلتا ہے جس میں جعفر طیار کے اندر موجود ہر عزا خانے سے علم برآمد ہوتے ہیں۔ یہ جلوس مختلف گلیوں سے گشت کرتا ہوا جب عون و محمد چوک پر پہنچتا ہے تو اس میں سیکڑوں کی تعداد میں علم ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں برصغیر کے ہر علاقے کے کلچر کے حساب سے علم ہوتے ہیں۔

4۔ آٹھ محرم کی نیاز

8 محرم کی شام سے ہی جعفر طیار کے ہر گلی کوچے میں ہر گھر میں نیاز حضرت عباس کا احتمام ہوتا ہے۔ حالت یہ ہو جاتی ہے کہ ایک گلی سے نکل کر دوسری گلی میں جانا دوبھر ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی پکڑ پکڑ کر اپنے گھر کی نیاز میں لے جانا چاہتا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر نذرونیاز شاید ہی کہیں پر ایک ساتھ ہوتی ہو.

5۔ شب عاشور

شب عاشور ہر عزاخانے کے دروازے کھل جاتے ہیں پورے جعفر طیار میں ایک ہجوم ہوتا ہے جو ہر گلی محلے میں گشت کر رہا ہوتا ہے اور ہر عزا خانے میں موم بتی جلا رہا ہوتا ہے۔ مین مرکزی روڈ پر اس قدر افراد کے ریلے کے ریلے آرہے ہوتے ہیں کہ پوری رات تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی آس پاس کے اہل سنت آبادیوں کی خواتین بھی بڑے پیمانے پر منتیں چڑھانے کے لئے مختلف عزا خانوں کا رخ کرتی ہیں خاص طور پر عزت مرحوم کےعزاخانے میں یہ بات مشہور ہے کہ جو بھی اپنی لڑکی کی شادی کی منت مانے گا وہ اگلے سال پوری ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عزت مرحوم کے عزاخانے میں جعفر طیار کی عوام تو کم ہوتی ہے۔ آس پاس کی اہلسنت کی خواتین بہت بڑے پیمانے پر آتی ہیں اور اپنی منت چڑھاتی ہیں۔ شب عاشور کا اختتام اذان علی اکبر پر ہو جاتا ہے جو مرکزی امام بارگاہ سے ہوتی ہے۔

6۔ شام غریباں

عاشور کے دن جعفرطیار میں کوئی بڑا پروگرام نہیں ہوتا سارے لوگ مرکزی جلوس میں شرکت کے لیے نشتر پارک چلے جاتے ہیں۔ اور فاقہ شکنی کے ٹائم واپس آنا شروع ہوتے ہیں۔ فاقہ شکنی بھی بہت بڑے پیمانے پر مختلف جگہوں اور عزا خانوں میں کرائی جاتی ہے۔
نماز مغربین کے بعد مجلس شام غریباں کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں یوں تو مختلف امام بارگاہوں میں مجلس ہوتی ہے مگر شام غریباں کی مرکزی مجلس مرکزی امام بارگاہ میں ہوتی ہے۔ مرکزی امام بارگاہ کی شام غریباں کی مجلس میں عوام کا ایک سمندر ہوتا ہے شاید ہی پاکستان میں کوئی اتنے بڑے پیمانے پر مجلس شام غریباں منائی جاتی ہو۔ مجلس کے اختتام پر بہت بڑے پیمانے پر زنجیر زنی ہوتی ہے۔ زنجیر زنی کے اختتام پر پھر بھرپور ماتم داری بھی ہوتی ہے۔

عاشور کے بعد کے عشرے اور خمسے کی مجالس

1۔ آئی ایس او کا عشرہ مجالس

یہ عشرہ مجالس عشرہ ثانی کے نام سے مشہور ہے جو مرکزی امام بارگاہ میں منعقد ہوتا ہے یہ 1990 کی دہائی سے آج تک جاری ہے ۔ شروع شروع میں اسے آئی ایس او کے محب یونٹ جو کہ میٹرک سے کم عمر بچے ہوتے ہیں انہوں نے شروع کیا تھا۔ اور خطاب کرنے کے لیے بھی عام طور پر انڈر میٹرک ذاکر آیا کرتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ عشرہ منظم ہوتا گیا اور پھر آئی ایس او نے خود اس کا انتظام سنبھال لیا۔ اس وقت یہ جعفر طیار کے بڑے عشروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

2۔ انجمن جعفر طیار کا عشرہ مجالس

یہ عشرہ مجالس 2000 کی دہائی سے مرکزی امام بارگاہ میں شروع ہوا۔ یہ مجالس 21 محرم سے شروع ہوتی ہیں اور محرم کے مہینے کے اختتام تک چلتی ہیں۔ عام طور پر اس عشرے میں 5 ، 5 مجالس الگ الگ لوگ پڑھتے ہیں۔ آخری 5 مجالس سے علامہ شہنشاہ نقوی خطاب کرتے ہیں اور ان کی مجلس میں جو رش ہوتا ہے وہ جعفرطیار کی کسی بھی مجلس سے زیادہ ہوتا ہے۔ پورا امام بارگاہ عورتوں اور مردوں سے بھر جاتا ہے اور پھر مین روڈ میں تاحد نگاہ لوگ موجود ہوتے ہیں۔ مجمے کو کنٹرول کرنے کے لئے امام بارگاہ سے باہر مزید ایک اسکرین لگانی پڑتی ہے۔

3۔ انجمن جواد یہ کا عشرہ مجالس

انجمن جوادیہ جس کا تعلق کورنگی سے ہے مگر وہ 1980 کی دہائی کے شروع سے مرکزی امام بارگاہ میں یکم صفر سے 10 صفر تک اپنا عشرہ کراتی ہے اور اس میں بڑے بڑے علماء اور ذاکرین خطاب کر چکے ہیں۔ 10 صفر کو وہ حضرت سکینہ کا اپنے مخصوص انداز میں پورے امام بارگاہ میں اندھیرا کر کے تابوت نکالتے ہیں۔ اس تابوت میں پورے شہر سے لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں اور اپنی منت چڑھاتے ہیں۔

4۔ دیگر عشرے اور خمسے

یوں تو ان عشروں کے علاوہ بڑے پیمانے پر بھی عشرہ مجالس ہو جاتے ہیں مگر کیوں کے ان کا تسلسل نہیں اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا جا رہا۔ ویسے اوپر بیان کردہ مساجد اور امام بارگاہوں میں مسلسل مختلف خمسہ مجالس چلتے رہتے ہیں جن میں المنتظر اکیڈمی کا خمسہ مجالس 3 ربیع الاول سے 7 ربیع الاول تک 2005 سے حسنین مسجد میں ہورہا ہے۔ فروغ علوم ال محمد کا خمسہ 11 صفر سے 15 صفر تک جو 2001 سے مرکزی امام بارگاہ میں ہوتا ہے اور انجمن غلامان علمدار کا قدیمی خمسہ 23 سے 27 صفر تک مرکزی امام بارگاہ میں ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی دیگر خمسہ مجالس شامل ہیں ۔

ماتمی جلوس عزا

جعفر طیار میں ایام عزا کے دوران بہت سارے ماتمی جلوس نکلتے ہیں جن میں سے کچھ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ان میں 5 محرم کا جلوس جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اس کے علاوہ باقی بڑے جلوسوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔ بارہ علم بارہ ذوالجناح

یہ جلوس بارہ علم اور بارہ ذوالجناح پر مشتمل ہوتا ہے جو نوے کی دہائی کے آخر میں شروع کیا گیا۔ یہ محرم کے ہر تیسرے اتوار کو نادی علی اسکوائر کے پاس سے نکلتا ہے اور مختلف علاقوں میں سے گشت کرتا ہوا مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔

2۔ توقیر زیدی شہیدکا جلوس

یہ جلوس 80 کی دہائی کے اوائل سے لے کر آج تک 24 محرم کو مولا امام سجاد کی شہادت کے موقع پر توقیر شہید کے گھر سے نکلتا ہے اور مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ پہلے اس جلوس کو توقیر شہید نکالتے تھے 1994 میں ان کی شہادت کے بعد سے ان کے بھائی اس کو اسی شان و شوکت سے نکالتے ہیں۔ اس جلوس میں صرف انجمن شباب المومنین ماتم داری کرتی ہے اور بعض اوقات اتنے لمبے حلقے بنتے ہیں کہ ان کے گھر سے مرکزی امام بارگاہ کی حدود تک ماتم داری ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ جلوس رات کے 11:00 بجے تک برآمد ہوتا ہے اور رات 2 سے 3 بجے تک اختتام پذیر ہوتا ہے۔

3۔ غنچہ العباس کا جلوس

یہ جلوس 80 کی دہائی کے اوائل سے امامیہ امام بارگاہ سے نکل کر مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا بالکل مختلف جلوس ہے کیونکہ یہ بچوں کا جلوس ہوتا ہے اور اس میں تمام انجمنیں چھوٹے بچوں کی ہوتی ہیں۔ یہ جلوس اتنا پرانا ہے کہ اس جلوس کو نکالنے والے بچے اب خود بوڑھے ہو گئے ہیں۔ اس جلوس میں ناصرف جعفر طیار بلکہ ملیر بھر کی اطفال انجمنیں شامل ہوتی ہیں۔

4۔ بہتر تابوت کا جلوس

یہ جعفر طیار کا سب سے معروف جلوس عزا ہے جس میں پورے کراچی سے لوگ شریک ہوتے ہیں اس جلوس میں 72 شہدائے کربلا کے تابوت نکالے جاتے ہیں۔ یہ جلوس 1986 میں ضامن عباس زیدی اور ان کے رفقاء نے شروع کیا جو آج تک اپنی آب و تاب سے جاری ہے۔ یہ جلوس محبان عزا چوک سے برآمد ہوتا ہے اور مختلف راستوں سے ہوتا ہوا مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔

5۔ 18 قمر بنی ہاشم کا جلوس

یہ جلوس نوے کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا۔ یہ ربیع الاول کے پہلے ہفتے کی رات کونکالا جاتا ہے جو کہ نادی علی اسکوائر کے پاس سے نکلتا ہے اور حسنین مسجد میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ پہلے یہ جلوس اتوار کو نکالا جاتا تھا اور مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا تھا مگر اب اس کے روٹ اور دن کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

6۔ ربیع الاول کی پہلی اتوار کا جلوس

یہ جعفر طیار کا سب سے قدیم جلوس ہے پانچ محرم کے جلوس کی طرح یہ جلوس بھی 1956 سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ جلوس امامیہ امام بارگاہ سے برآمد ہوتا ہے اور مختلف راستوں سے ہوتا ہوا حسینی سفارت خانے میں جا کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

7۔ جلوس داخلہ مدینہ

اظہر حسین زیدی صاحب جب بی ایریا سے جعفر طیار میں منتقل ہوئے تو انہوں نے 8 ربیع الاول کو جلوس داخلہ مدینہ 1979 میں نکالا جسے 1982 میں انجمن جعفرطیار نے لے لیا۔ اور آج تک یہ جلوس انجمن جعفرطیار ہی نکال رہی ہے۔ یہ جلوس آخری محرم کے جلوس کے نام سے بھی مشہور ہے اور یہ مرکزی امام بارگاہ سے نکل کر مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے زیدیہ امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ جلوس مجمعے کے لحاظ سے اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس کا دوسرا سرا مرکزی امام بارگاہ پر ہی ہوتا ہے اور پہلا سرا زیدیہ امام بارگاہ پہنچ جاتا ہے۔

8۔ دیگر جلوس

ان جلوسوں کے علاوہ بھی جعفر طیار میں چھوٹے بڑے بہت سارے جلوس نکالے جاتے ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں قابل ذکر عاشور کی شام العباس کا جلوس، چہلم کا الصبح کا جلوس، 28 صفر کا جلوس اور شہنشاہ بھائی کے گھر کے جلوس وغیرہ ہیں۔

ایام عزا کی شب بیداریاں اور دیگر مجالس

شب بیداری یعنی رات کو مجلس شروع ہوتی ہے اور مجلس کے بعد نوحہ خوانی کا آغاز ہوتا ہے جو فجر کی اذان تک جاری رہتا ہے۔

1976 میں جب انجمن عزائے حسین کا قیام عمل میں آیا تو اسی انجمن نے سب سے پہلے جعفر طیار میں امامیہ امام بارگاہ میں شب بیداری کا آغاز کیا۔ جب 1983 میں جعفر طیار کی تمام انجمنوں نے مل کر انجمن جعفرطیار بنائی تو اس شب بیداری کا انتظام انجمن جعفر طیار کے ہاتھ میں آ گیا۔ یہ شب بیداری بہت بڑے پیمانے پر ہوتی تھی جس میں نہر فرات، خیام حسینی، تلہ زینبیہ اور فوج حسینی بنا کر منظر کشی کی جاتی تھی اور ساتھ ساتھ پوری رات کراچی بھر سے آنے والی انجمنوں کی ماتم داری کا سلسلہ چلتا رہتا تھا اور ایک بہت بڑا مجمع ان کو سننے کے لیے آتا تھا۔

1989 میں انجمن عزائے حسین دوبارہ الگ ہو گئی اور اس نے مرکزی امام بارگاہ میں اپنی الگ شب بیداری شروع کردی۔ اس دور میں جعفر طیار میں شب بیداریاں اتنی بڑی تعداد میں ہوتی تھیں کہ ہر جمعرات کو مرکزی امام بارگاہ اور امامیہ امام بارگاہ میں کسی نہ کسی انجمن کا پروگرام ہو رہا ہوتا تھا۔

2000 کے بعد سے شب بیداری میں عوامی شرکت کم سے کم ہونے لگی اور اس کو دیکھتے ہوئے اور مختلف وجوہات کی بنا پر انجمن جعفرطیار نے 2002 میں اپنی شب بیداری کو ختم کرکے عشرہ مجالس شروع کر دی۔ انجمن جعفرطیار کی پیروی کرتے ہوئے بہت ساری انجمنوں نے اپنی شب بیداری کو مجلس عزا تک محدود کردیا ہے۔ ان مجالس میں محبان عزا کی 6 ربیع الاول کی مجلس 1983 سے شروع ہوئی تھی اب مرکزی حیثیت حاصل کر گئی ہے۔

خواتین کی مجالس

جعفر طیار میں ایام عزا کے دوران خواتین کے مجالس کے عشرے سیکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ جب کہ ہر گھر میں ایک لازمی خواتین کی مجلس ضرور ہوتی ہے۔ جس کے گھر مجلس ہوتی ہے وہ پورے کراچی بھر کے خاندان والوں کو ضرور بلاتا ہے۔ مجلس کے اختتام پر تبرک بٹتا ہے اور اس کے بعد خاندان والوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ یہ کلچر پورے کراچی میں عام ہے۔ مگر جعفر طیار میں جب مجلس اختتام پذیر ہوتی ہے تو تبرک باٹنا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔ یہاں کچھ خاندان ایسے ہیں جو کہ باقاعدہ طور پر تبرک کے لیے مجلس میں گھستے ہیں اور انتہائی بدنظمی کر کے تبرک حاصل کرتے ہیں۔ یہ ان کی تیسری پشت ہے جو جعفرطیار میں اسی طرح سے تبرک حاصل کر رہی ہے۔ ان لوگوں کی وجہ سے عام طور پر مجالس اپنے اختتام پر انتہائی بدنظمی کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس مخصوص خاندان کی تربیت اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ ان پر عام طور پر کوئی توجہ نہیں دیتا یہاں تک کہ ان کی تیسری پشت بھی اسی طرح چھینا جھپٹی کرکے تبرک حاصل کر رہی ہے۔ اب یہ پورا ایک قبیلہ ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان لوگوں کے بڑوں سے باقاعدہ میٹنگ کی جائے تاکہ ان کی کسی طرح سے بھی تربیت اور اصلاح کی جا سکے۔۔

امید ہے جعفر طیار کے علماء اور دانشور اس قبیلے کی اصلاح کے لیے کوئی اقدامات اٹھائیں گے۔

تحریر : پروفیسر علی عمران

Gaza hits Israel

Gaza beats Israel’s prestige despite Tel Aviv’s claiming to be a ‘superpower’

With its various Palestinian factions, Gaza collectively inaugurated the state for the full consciousness of Palestine and achieved its goal of violating Israel’s prestige, despite Prime Minister Benjamin Netanyahu’s claim that it had become “a superpower, not just a regional power “. This new Palestinian awareness was achieved after the Israeli escalation and aggressive campaign against the Sheikh Jarrah neighbourhood (read the full story below) inhabited by more than 38 Palestinian families threatened with eviction from their homes. Israel also brutally attacked protesters at the al-Aqsa mosque.

The fate of the Sheikh Jarrah neighbourhood has become an international issue that increases global awareness and solidarity with oppressed Palestinians. The Palestinian cause had been absent from the international arena after the normalizations of the Arab and Islamic countries and when [former US President] Donald Trump offered all of Jerusalem to Israel.

But the fighting in Gaza is not expected to end anytime soon, as Israel seeks to restore the deterrent power it has lost due to Palestinian missiles fired successfully from Gaza. Furthermore, the Arab uprising is unusual in 1948. After 72 years of coexistence, especially in the city of Lod and in other mixed Arab-Israeli cities, they have shown that the new generation wants to regain its occupied territory and reject the failed Oslo. and the Camp David Accords.

The stormy development does not just come from the field: rockets from Gaza burn the ground under the feet of Palestinian President Mahmoud Abbas (Abu Mazen). Abbas delayed the parliamentary and presidential elections that would inevitably lead to the loss of the presidency that he has held since 2005. Israel, of course, regards the current Palestinian president as its best partner because it has rejected armed resistance. Abbas also maintains security cooperation with Israel and prevents Palestinians living in the West Bank from joining Gaza to confront both Israeli aggression and Israeli expansion.

It is very likely that Israel also acted in its own interests by disrupting the Palestinian presidential elections that coincided with the illegal expulsion of Sheikh Jarrah’s families to prevent Palestinians from Jerusalem from participating in the vote. Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu is undoubtedly aware that attacking al-Aqsa and the people of Jerusalem is like lighting the fuse on a powder keg. The first and second intifadas were the best proof of these explosive possibilities.

Hamas, “Islamic Jihad” and all other factions in the Gaza Strip have achieved unity with Jerusalem by defending it. Hamas did not start bombing Israeli settlements until it gave Israel many hours to stop attacking the civilian population in Jerusalem. However, Tel Aviv insisted on its position and drew everyone into the fight for Benjamin Netanyahu to achieve his goals of postponing the Israeli elections to save his political future. Palestinian groups in Gaza bombarded Jerusalem, Tel Aviv, Ashkelon, Ashdod with hundreds of rockets that reached not far from Haifa. Israeli officials could not predict the intensity of the Palestinian rocket response and the reaction to its abuse of power and the bombing of Gaza. The various resistance groups demonstrated their credibility with times and threats. They gained more significant popularity among the Palestinian and Arab populations who supported the cause and against normalization with Israel.

One of the most critical goals the Palestinians in Gaza have achieved was to demonstrate that the Iron Dome failed to capture all of the cheap domestically-produced rockets that entered and aimed at Israeli territory. Gaza flooded Israel’s sophisticated interception systems, as it sent more than 100 rockets simultaneously. Israel acknowledged that it could not stop the rocket fire despite the Israeli army bombing dozens of targets. To the detriment of the population, Israel bombed several civilian towers (al-Hanadi, al-Jawhara and al-Shorooq) in prestigious commercial and residential areas with the intention of turning residents against Palestinian groups that were fighting Israel.

To date, at least 69 Palestinians have lost their lives and 6 Israelis, including a military officer, have been killed in the shelling. Palestinian groups were able to launch more than 1,300 rockets. Embarrassing scenes emerged in which members of the Israeli Knesset and the Defense Minister fled to bomb shelters.

Israel has lost not only its ability to deter but also its prestige. In the 1940s, a Jewish terrorist group attacked British forces and blew up the King David Hotel in 1946, killing 91 people. The Irgun group claimed responsibility for the attack, in which British officials from the British Empire, which ruled Palestine at the time, were killed. David Ben-Gurion, the founder of the so-called state of Israel, was asked at the time: “Will the Haganah gang defeat Britain with this bombing?” He replied: “The aim is to break the prestige of the British Empire.” Gaza has violated the prestige of the Israeli myth.

The history of the Sheikh Jarrah neighbourhood:

Following the expulsion of Palestinians in 1948, known as “Nakba”, some 750,000 Palestinians were forced to flee their homes to neighbouring countries. Following these events, 28 families (today there are 38) settled in Sheikh Jarrah in East Jerusalem [al-Quds] in 1956. They reached an agreement with the Jordanian Ministry of Construction and Development and the UN refugee agency, UNRWA, to provide housing. those from the Sheikh Jarrah area. At that time, the West Bank was under Jordanian rule (1951-1967).

The Jordanian government provided the land, while UNRWA covered the cost of building 28 houses for these families. It was agreed that the inhabitants pay a token fee, provided that the property is transferred to the inhabitants more than three years after the completion of construction. “

However, this was interrupted by the Israeli occupation of the West Bank, including Jerusalem, in 1967, which prevented the registration of houses with surnames.

This month, the Jordanian Foreign Ministry said it had given the Palestinian Foreign Ministry 14 ratified agreements for the people of the Sheikh Jarrah area in East Jerusalem, supporting their claim to their lands and properties.

In a statement, the ministry said it was handing out a certificate to residents showing that the Jordanian Ministry of Construction and Development had agreed with UNRWA to establish 28 houses in Sheikh Jarrah to be delegated and registered in the names of these families. However, the process was stopped due to the Israeli occupation of the West Bank in 1967. The Ministry had previously provided the Palestinian side with all documents that could help the inhabitants of Jerusalem to retain all their rights, including leases, name lists of beneficiaries and a copy of the 1954 UNRWA agreement.

In 1972, the Sephardic Committee and the Israel Knesset Committee claimed ownership of the land on which the houses were built in 1885 and asked the court to evict four families from their homes in the neighbourhood, accusing them of land grabbing.

In 1982, Israeli settlement associations filed a deportation case against 24 families in the Sheikh Jarrah neighbourhood, and 17 families had Israeli lawyer Tosia Cohen to defend them. In 1991, the lawyer signed an agreement without the families knowing that the ownership of the land belongs to the settlement associations. The lawyer threatened to deport the Palestinian families if they did not pay the rent to the housing associations.

In 1997, Suleiman Darwish Hijazi, a resident, filed a lawsuit with the Israeli central court to prove his ownership of the land using documents issued by the Ottoman Empire, brought from Turkey. However, the measure was reversed when the court rejected the claim in 2005.

The court ruled that the newspapers did not prove ownership of the land and Hijazi’s appeal the following year was rejected. In November 2008, the al-Kurd family was evicted from their homes, followed by the Hanoun and al-Ghawi families in August 2009.

To date, 12 Palestinian families in the neighbourhood have received deportation orders issued by Israeli magistrates and central courts. Four Palestinian families have petitioned the Supreme Court, Israel’s highest judicial body, against the decision to evict them from their homes. Israel’s Central Court in East Jerusalem [al-Quds] approved a decision earlier this year to deport four Palestinian families from their homes in the Sheikh Jarrah neighbourhood in favour of right-wing Israeli settlers.

In 1948, al-Sabbagh’s family fled their home in Jaffa, where Israelis now live. Al-Sabbagh, a family of 32, including 10 children, fears the court will turn him and his family back into refugees.