Under Construction

Jaffar e Tayyar..!

J.T.C.H.S

جعفر طیار – Jaffar e Tayyar

Category Archive : Uncategorized

جعفر طیار کی عزاداری اور اس کی تاریخ پر ایک نظر

قیام پاکستان کے تین مہینے بعد ہی محرم آگئے۔ کراچی میں ہندوستان سے آئے ہوئے لٹے پٹے مہاجرین کے جن کی چپلیں تک ہندوستان کے بارڈر پر ہندوستان کی سیکیورٹی فورسز نے یہ کہہ کر اتروالیں تھیں کہ تم اپنے پاکستان بغیر چپلوں کے جاؤ گے۔ اس وقت ان کی اکثریت کیمپوں میں اور جھگیوں میں تھی۔ ایام عزا کے آتے ہی وہ غم حسین منانے کے لیے تڑپ رہے تھے مگر ان کے پاس کوئی اسباب نہیں تھے۔ مگر وہ نڈر اور بہادر لوگ جنہوں نے ہندوں کے منہ سے پاکستان نکال کر دکھایا تھا ہمت نہ ہاری اور ان لٹے پٹے افراد نے یوم عاشور پر علم بنانے کے لیے کچھ نہیں تھا مگر دوپٹوں سے پھریرے بناکر بانس پر لگائے اور جلوس نکال کر کھڑے ہوگئے۔ اپنی تمام تر پریشانیوں اور غربت کو ایک طرف رکھ کر شان و شوکت کے ساتھ جلوس نکالا اور کھارادر کے بڑے امام بارگاہ لے آئے۔ مگر کچھ وجوہات کی بنا پر جلوس ایرانیان کی طرف آ گیا۔ جب جلوس ایرانیان کی طرف آ رہا تھا تو ایرانیان کے محلے کا وہ فرد جس نے ایرانیان میں جلوس کو ختم کرنے کی تجویز دی تھی۔ جلوس سے آگے آگے بھاگتا ہوا اپنے محلے میں پہنچا اور ایک بڑے جلوس کے آنے کی اطلاع دی۔ کیونکہ اس زمانے میں ایرانیوں کی بیکریاں ہوا کرتی تھیں سارے بیکری والے اپنی بیکریوں کی طرف بھاگے اور جتنے بھی دستیاب بند تھے سب لے کر آگئے۔ پورا محلہ جلوس کے استقبال کے لئے کھڑا ہو گیا۔
جلوس میں بٹنے والا یہ بند پورے جلوس کا یہ واحد تبرک تھا جو پورے راستے میں تبرک کے طور پر شرکاء جلوس کو ملا۔

جس خلوص سے مہاجرین نے عزاداری کو منعقد کیا اللہ تعالی کو یہ انداز اتنا پسند آیا کہ آج پورے برصغیر کے ہر علاقے کی عزاداری کا رنگ کراچی کی عزاداری میں موجود ہے۔ یہاں تک کہ پوری دنیا میں جہاں جہاں عزاداری شروع ہوئی وہاں وہاں کراچی کی عزاداری کا رنگ نمایاں ہے اور جس جلوس میں صرف ایک بند تبرک کے طور پر بٹا آج اس جلوس میں کروڑوں روپے کے تبرکات بٹتے ہیں اور کراچی کا مرکزی جلوس ہمیشہ کے لئے ایرانیان ہال سے وابستہ ہو گیا اور اس جلوس کی شان و شوکت پوری دنیا میں مانی جاتی ہے۔

جعفر طیار کی تاریخ

جیسے جیسے کراچی کی آبادی بڑھتی گئی عزاداری بھی پورے شہر کی مختلف آبادیوں میں پھیلتی گئی۔ انہی آبادیوں میں ایک جعفر طیار سوسائٹی بھی ہے۔ جعفر طیار سوسائٹی ضلع ملیر میں واقع ہے اور اس کی آبادی اب تقریبا 60 ہزار سے زیادہ ہے۔ جس میں حسنین، عمار یاسر، غازی ٹاون، اور باغ اسد وغیرہ بھی شامل ہیں۔ یہ پوری آبادی مومنین پر مشتمل ہے اور اب باقاعدہ ضلع ملیر کی ایک یونین کونسل ہے۔
ملیر کیوں کہ ایک زرعی علاقہ تھا مگر اس کا پورا انحصار بارشوں پر تھا۔ جیسے جیسے بارشوں میں کمی آتی گئی پانی کے مسائل بڑھتے رہے اور نتیجتا کاشتکار زمین چھوڑ کر پیچھے ہوتے چلے گئے۔ یوں یہ خالی زمین کاشتکاروں نے فروخت کرنا شروع کر دی۔ جعفر طیار بھی پہلے کھیتوں پر ھی مشتمل تھا جب کھیت ختم ہوئے تو اسے 1969 میں ایک سرمایہ دار حیدر علی مولجی نے خرید لیا اور یہاں مومنین کے لیے پلاٹنگ شروع کردی۔ ابتدا میں 200 گز کا پلاٹ 2000 روپے کا اور 96 گز کا پلاٹ 1000 روپے کا فروخت کیا گیا۔ یوں دھیرے دھیرے آبادی بڑھنے لگی یہاں پہلا مکان جنگل والی خالہ کا تھا جن کا نام اس جنگل میں رہنے کی وجہ سے جنگل والی خالا پڑ گیا تھا۔ یہ وہی تین منزلہ مکان تھا جو مرکزی کے سامنے موجود تھا اور 2019 میں گر گیا تھا۔جعفر طیار کی آبادی کا پھیلاؤ ایف ساؤتھ سے ملحقہ سروے جیسے 640، 627 اور 552 وغیرہ سے شروع ہوا اور بڑھتے بڑھتے اتنا بڑھا کہ آج جعفر طیار ضلع ملیر کی ایک یونین کونسل ہے۔

عزاداری کا آغاز

جعفر طیار کی عزاداری کی تاریخ بیان کرنے میں اگر ایف ساوتھ کے مومنین کا ذکر نہ کیا جائے تو یہ نا انصافی ہوگی۔ جعفر طیار میں عزاداری جعفرطیار کے بننے سے پہلے ہی شروع ہو چکی تھی۔ کیونکہ جعفر طیار سے ملحقہ آبادی ایف ساوتھ بن چکی تھی۔ یہاں پر مقیم مومنین کو مسجد اور امام بارگاہ کی اشد ضرورت تھی۔ ان لوگوں نے موجودہ جعفر طیار سوسائٹی کے سروے نمبر 640 کے اندر جو کہ ایف ساؤتھ سے ملا ہوا تھا اور مکمل جنگل تھا 1956 میں زمین کا ٹکڑا حاصل کرلیا۔ مگر کچھ لوگوں کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی اور انھوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا کہ کسی طرح امام بارگاہ نہ بنے۔ یہاں تک کہ صبح سے شام تک دیوار بنتی اور رات کو کوئی گرا کر چلا جاتا۔ ایسی حالت میں 12 افراد نے اپنی ایسی استقامت دکھائی کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ان افراد میں اظہار الحسن رضوی (دروغاجی) علی حسن زیدی وغیرہ پیش پیش تھے۔ جب کافی دفعہ دیوار گرنے کا واقعہ ہو گیا تو انہی 12 افراد نے جن میں اظہار الحسن رضوی جو ایک بارعب آدمی تھے سب کی ڈیوٹی لگائی کہ جب تک امام بارگاہ کی تعمیر ہوتی رہے گی تب تک سارے افراد باری باری اپنی چارپائی امام بارگاہ کے پاس ڈال کر سویں گے۔ یوں روز ایک آدمی رات میں امام بارگاہ میں پہرا دیتا اور وہیں سوتا۔ اس طرح سے امامیہ مسجد اور امام بارگاہ کی تعمیر مکمل ہوئی اور وہاں مسجد میں نماز
شروع ہوگئی۔

امام بارگاہ کی تعمیر کے بعد جب پہلا محرم آیا تو امام بارگاہ میں باقاعدہ پورے ایام عزا خواتین اور مردوں کی مجالس کا سلسلہ چلتا رہا اور اس کے علاوہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ 2 جلوس نکالے جائیں گے ایک حسینی سفارت خانے کی طرف اور دوسرا نیشنل ہائی وے سے ہوتا ہوا ملیر مندر کے علاقے میں موجود قائمیہ امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوگا۔

جعفر طیار کی مساجد اور امام بارگاہ

1۔ امامیہ مسجد و امام بارگاہ

یہ جعفر طیار کا سب سے قدیم مسجد و امام بارگاہ ہے جو 1956 میں تعمیر ہوا۔ اس کی پوری تفصیل ہم پیچھے بیان کر چکے ہیں۔

2۔ حسنین مسجد

حسنین مسجد بھی جعفر طیار میں پرانی مساجد میں سے ایک ہے اور اس کی تعمیر 1970 کے عشرے کے اوائل میں ہوئی۔ یہ صرف مسجد ہے اس میں براہ راست کوئی اور امام بارگاہ کی بلڈنگ نہیں ہے تاہم یہاں ایام عزا میں مجالس کا سلسلہ زور و شور کے ساتھ ہوتا ہے۔ ماضی میں کئی بڑے بڑے پروگرام بھی حسنین مسجد میں ہوئے مگر کبھی تسلسل باقی نہ رہ سکا۔
3۔ مرکزی مسجد اور امام بارگاہ

مرکزی مسجد و امام بارگاہ کا صرف نام ہی مرکزی نہیں بلکہ یہ مسجد اور امام بارگاہ خود جعفر طیار میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایام عزا کے تمام بڑے پروگرام اور عید کی نماز کے بڑے اجتماع یہیں ہوتے ہیں۔ مرکزی امام بارگاہ کی انتہائی خوبصورت عمارت ہے اور ایک بہت بڑا ہال ہے۔ مرکزی امام بارگاہ کی عمارت اب جعفر طیار کی پہچان بن گئی ہے۔ جب مرکزی امام بارگاہ اور مسجد بنی تو اس کا انتظام انجمن جعفریہ کے کنٹرول میں تھا۔ 1982 میں مرکزی مسجد اور امام بارگاہ کو چلانے کے لیے باقاعدہ ٹرسٹ بنی جس کا نام غازی عباس رکھا گیا۔ جس کو بنانے میں حسن عباس زیدی مقداد جعفری اور ڈاکٹر شفاعت وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

4۔ مسجد خدیجۃ الکبرہ و امام بارگاہ سلمان فارسی

417 جعفر طیار کا ایک کٹا ہوا سروے ہے جس کے مکین بہت فاصلہ طے کر کے نماز کی غرض سے امامیہ یا مرکزی مسجد پہنچتے تھے۔ اب وہاں 2000 کے عشرے کے آخر میں دو الگ الگ عمارتیں امام بارگاہ سلمان فارسی اور مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے نام سے بنا لی گئی ہیں۔

5۔ باب الحوائج

غازی ٹاؤن میں جیسے جیسے مومنین کی آبادی بڑھتی گئی وہاں بھی مسجد و امام بارگاہ کی ضرورت محسوس کی جانے لگی اوریوں 1990 کے عشرے کے آخر میں مسجد و امام بارگاہ باب الحوائج کی تعمیر ہوگئی۔

6۔ دیگر امام بارگاہ

جعفر طیار میں بے شمار مزید چھوٹے چھوٹے امام بارگاہ اور بھی موجود ہیں۔ جن میں زیدیہ امام بارگاہ، درگاہ العباس، مسجد زہرا اور عزت مرحوم کا امام بارگاہ قابل ذکر ہیں۔

ایام عزا کا عشرہ اولا

محرم کے آنے سے دو تین دن پہلے ہی جعفر طیار کا ماحول سوگوار ہو جاتا ہے۔ ہر طرف محرم کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ محرم کا چاند دیکھتے ہی ہر طرف کالے پرچم لگا دیے جاتے ہیں اور عزاخانے سجادیے جاتے ہیں۔ صبح سے لے کر شام تک خواتین کے عشرے ہوتے ہیں جو تقریبا 300 سے زیادہ ہوتے ہیں۔ شام سے مردوں کی مجالس بھی شروع ہو جاتی ہیں جو رات گئے تک جاری رہتی ہیں۔ ہر طرف مجمع ہوتا ہے کہیں کوئی مجلس سے آ رہا ہوتا ہے تو کہیں کوئی مجلس میں جا رہا ہوتا ہے۔ مرکزی امام بارگاہ سے منسلک مرکزی روڈ پر لائن سے اسٹال لگے ہوتے ہیں جن میں بڑی بڑی سبیلوں کا انتظام کیا جاتا ہے جو مختلف سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے ہوتا ہے اس کے علاوہ اسلامی کتب کے بھی اسٹال لگے ہوتے ہیں۔ ہر طرف نوحوں کی زور دار آوازیں آ رہی ہوتیں ہیں جو صرف مرکزی میں مجلس کے وقت ہی ختم ہوتی ہیں۔ مرکزی روڈ پر ایک عجیب ماحول ہوتا ہے جو کہ لکھا نہیں جا سکتا اور نہ ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔
عاشور تک کے عشرے

1۔ تحریک جعفریہ کا عشرہ

یہ عشرہ مرکزی امام بارگاہ میں ہوتا ہے اور 1983 سے آج تک منعقد کیا جا رہا ہے۔ یہ شام کے وقت شروع ہوتا ہے اور مغرب کی اذان سے پہلے ختم ہوتا ہے اس عشرے کی خاص بات یہ ہے کہ جس نے بھی تحریک جعفریہ کے اس ممبر پر خطاب کرنے کی سعادت حاصل کی وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچا۔ جیسے مولانا جان علی شاہ کاظمی، مولانا حسن ظفر نقوی، مولانا سجاد دہلوی اور مولانا ناظر تقوی وغیرہ ۔

2۔ محبان عزا کا عشرہ

یہ جعفر طیار کا سب سے بڑا عشرہ ہوتا ہے جو مرکزی امام بارگاہ میں 1994 سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے۔ پہلی مرتبہ یہ عشرہ صبح 7 بجے منعقد ہوا جس میں مولانا عبدالحکیم بوترابی نے خطاب کیا ۔ دوسری مرتبہ یہ رات میں گیارہ بجے ہونے لگا اور آج تک گیارہ بجے ہی ہوتا ہے۔ اس عشرے میں 1995 سے لیکر اپنی وفات تک مولانا عرفان حیدر عابدی نے خطاب کیا ان کے بعد سے اب تک ہر سال بڑے بڑے ذاکرین اس عشرے سے خطاب کرتے آئے ہیں اور اس عشرے میں ہزاروں کا مجمع ہوتا ہے۔

3۔ بزم فاطمہ کا عشرہ

یہ عشرہ بھی مرکزی امام بارگاہ میں ہی منعقد ہوتا ہے جو فورا بعد نماز مغربین شروع ہو جاتا ہے۔ اس عشرے کو آج سے 7 سال پہلے شروع کیا گیا۔ پہلے عشرے میں خطاب مولانا ذکی باقری نے کیا جس میں عزاداروں کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر تھا۔

4۔ دیگر عشرے

اس کے علاوہ بھی کچھ بڑے عشرے ہوتے ہیں جن میں پیام ولایت کا حسنین مسجد کا عشرہ، انجمن العباس کا امامیہ امام بارگاہ کا عشرہ، درگاہ باب الحوائج کا عشرہ اور سچے بھائی کے ہاں کا صبح کا قدیمی عشرہ قابل ذکر ہیں۔

عاشور تک کے مرکزی پروگرام

پہلی محرم سے 4 محرم تک جعفر طیار والے صرف مجالس میں شریک ہوتے ہیں اور جناب سیدہ کو ان کے مظلوم لال کا پرسہ دیتے ہیں۔ 5 محرم سے مخصوص پروگرام شروع ہو جاتے ہیں

1۔ پانچ محرم کا جلوس

5 محرم کو امامیہ امام بارگاہ جعفر طیار سے ایک قدیمی جلوس برآمد ہوتا ہے جو کوئی لگ بھگ 1956 سے نکالا جا رہا ہے۔ جو اپنے مقررہ راستوں جناح اسکوائر اور محمدی ڈیرہ سے ہوتا ہوا قائمیہ امام بارگاہ ملیر مندر میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ جعفر طیار کا سب سے طویل فاصلے کا جلوس ہوتا ہے۔ اس جلوس میں بڑے پیمانے پر جوان شریک ہوتے ہیں جو قائمیہ امام بارگاہ پر جلوس کو ختم کرکے پھر پیدل پیدل پیچھے سے جعفرطیار میں واپس آتے ہیں۔ جب یہ جلوس شروع ہوا تھا تو جعفر طیار خود ایک کھیت تھا۔ جلوس کے اختتام پر جو گیس لائٹیں جلوس میں چلتی تھیں ان کو ہی پکڑ کر ایک آدمی آگے آگے چلتا تھا اور باقی سارے لائن سے اس کے پیچھے چلتے ہوئے کھیتوں کے اندر سے ہوتے ہوئے امامیہ امام بارگاہ واپس آتے تھے۔

2۔ چھ محرم کا اہلیان شکار پور کا جلوس

جعفر طیار میں ہندوستان کے شہر شکارپور کے رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد رہائش پذیر ہے جو اپنے شکارپور کے کلچر کے مطابق 6 محرم کو مخصوص جلوس نکالتے ہیں جس میں پورے کراچی کے شکارپور کے افراد شریک ہوتے ہیں۔ دوسری طرف جعفرطیار کی بھی ایک بڑی تعداد اس میں شامل ہوتی ہے جس میں شکارپور کے افراد اپنے مخصوص انداز میں تابوت نکال کر ماتم داری کرتے ہیں ان کی ماتم داری کا انداز بہت مختلف ہوتا ہے۔

3۔ سات اور 8 محرم کے جلوس

شروع میں تو 7 محرم کی مناسبت سے حضرت قاسم کی مہندی نکلا کرتی تھی جس کا رواج اب کم ہوگیا ہے اور صرف ایک مرکزی طور پر محبان عزا کی مجلس کے اختتام پر نکلتی ہے۔ لیکن 7 اور 8 محرم کو چھوٹے عزاخانوں سے بہت سارے جلوس نکلتے ہیں۔ خاص طور پر 8 محرم کو تو بےشمار جلوس نکلتے تھے جن کو اب منظم کر لیا گیا ہے اور رات کو ایک جلوس نکلتا ہے جس میں جعفر طیار کے اندر موجود ہر عزا خانے سے علم برآمد ہوتے ہیں۔ یہ جلوس مختلف گلیوں سے گشت کرتا ہوا جب عون و محمد چوک پر پہنچتا ہے تو اس میں سیکڑوں کی تعداد میں علم ہو جاتے ہیں۔ اور اس کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں برصغیر کے ہر علاقے کے کلچر کے حساب سے علم ہوتے ہیں۔

4۔ آٹھ محرم کی نیاز

8 محرم کی شام سے ہی جعفر طیار کے ہر گلی کوچے میں ہر گھر میں نیاز حضرت عباس کا احتمام ہوتا ہے۔ حالت یہ ہو جاتی ہے کہ ایک گلی سے نکل کر دوسری گلی میں جانا دوبھر ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی پکڑ پکڑ کر اپنے گھر کی نیاز میں لے جانا چاہتا ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر نذرونیاز شاید ہی کہیں پر ایک ساتھ ہوتی ہو.

5۔ شب عاشور

شب عاشور ہر عزاخانے کے دروازے کھل جاتے ہیں پورے جعفر طیار میں ایک ہجوم ہوتا ہے جو ہر گلی محلے میں گشت کر رہا ہوتا ہے اور ہر عزا خانے میں موم بتی جلا رہا ہوتا ہے۔ مین مرکزی روڈ پر اس قدر افراد کے ریلے کے ریلے آرہے ہوتے ہیں کہ پوری رات تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی آس پاس کے اہل سنت آبادیوں کی خواتین بھی بڑے پیمانے پر منتیں چڑھانے کے لئے مختلف عزا خانوں کا رخ کرتی ہیں خاص طور پر عزت مرحوم کےعزاخانے میں یہ بات مشہور ہے کہ جو بھی اپنی لڑکی کی شادی کی منت مانے گا وہ اگلے سال پوری ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ عزت مرحوم کے عزاخانے میں جعفر طیار کی عوام تو کم ہوتی ہے۔ آس پاس کی اہلسنت کی خواتین بہت بڑے پیمانے پر آتی ہیں اور اپنی منت چڑھاتی ہیں۔ شب عاشور کا اختتام اذان علی اکبر پر ہو جاتا ہے جو مرکزی امام بارگاہ سے ہوتی ہے۔

6۔ شام غریباں

عاشور کے دن جعفرطیار میں کوئی بڑا پروگرام نہیں ہوتا سارے لوگ مرکزی جلوس میں شرکت کے لیے نشتر پارک چلے جاتے ہیں۔ اور فاقہ شکنی کے ٹائم واپس آنا شروع ہوتے ہیں۔ فاقہ شکنی بھی بہت بڑے پیمانے پر مختلف جگہوں اور عزا خانوں میں کرائی جاتی ہے۔
نماز مغربین کے بعد مجلس شام غریباں کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں یوں تو مختلف امام بارگاہوں میں مجلس ہوتی ہے مگر شام غریباں کی مرکزی مجلس مرکزی امام بارگاہ میں ہوتی ہے۔ مرکزی امام بارگاہ کی شام غریباں کی مجلس میں عوام کا ایک سمندر ہوتا ہے شاید ہی پاکستان میں کوئی اتنے بڑے پیمانے پر مجلس شام غریباں منائی جاتی ہو۔ مجلس کے اختتام پر بہت بڑے پیمانے پر زنجیر زنی ہوتی ہے۔ زنجیر زنی کے اختتام پر پھر بھرپور ماتم داری بھی ہوتی ہے۔

عاشور کے بعد کے عشرے اور خمسے کی مجالس

1۔ آئی ایس او کا عشرہ مجالس

یہ عشرہ مجالس عشرہ ثانی کے نام سے مشہور ہے جو مرکزی امام بارگاہ میں منعقد ہوتا ہے یہ 1990 کی دہائی سے آج تک جاری ہے ۔ شروع شروع میں اسے آئی ایس او کے محب یونٹ جو کہ میٹرک سے کم عمر بچے ہوتے ہیں انہوں نے شروع کیا تھا۔ اور خطاب کرنے کے لیے بھی عام طور پر انڈر میٹرک ذاکر آیا کرتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ عشرہ منظم ہوتا گیا اور پھر آئی ایس او نے خود اس کا انتظام سنبھال لیا۔ اس وقت یہ جعفر طیار کے بڑے عشروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

2۔ انجمن جعفر طیار کا عشرہ مجالس

یہ عشرہ مجالس 2000 کی دہائی سے مرکزی امام بارگاہ میں شروع ہوا۔ یہ مجالس 21 محرم سے شروع ہوتی ہیں اور محرم کے مہینے کے اختتام تک چلتی ہیں۔ عام طور پر اس عشرے میں 5 ، 5 مجالس الگ الگ لوگ پڑھتے ہیں۔ آخری 5 مجالس سے علامہ شہنشاہ نقوی خطاب کرتے ہیں اور ان کی مجلس میں جو رش ہوتا ہے وہ جعفرطیار کی کسی بھی مجلس سے زیادہ ہوتا ہے۔ پورا امام بارگاہ عورتوں اور مردوں سے بھر جاتا ہے اور پھر مین روڈ میں تاحد نگاہ لوگ موجود ہوتے ہیں۔ مجمے کو کنٹرول کرنے کے لئے امام بارگاہ سے باہر مزید ایک اسکرین لگانی پڑتی ہے۔

3۔ انجمن جواد یہ کا عشرہ مجالس

انجمن جوادیہ جس کا تعلق کورنگی سے ہے مگر وہ 1980 کی دہائی کے شروع سے مرکزی امام بارگاہ میں یکم صفر سے 10 صفر تک اپنا عشرہ کراتی ہے اور اس میں بڑے بڑے علماء اور ذاکرین خطاب کر چکے ہیں۔ 10 صفر کو وہ حضرت سکینہ کا اپنے مخصوص انداز میں پورے امام بارگاہ میں اندھیرا کر کے تابوت نکالتے ہیں۔ اس تابوت میں پورے شہر سے لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں اور اپنی منت چڑھاتے ہیں۔

4۔ دیگر عشرے اور خمسے

یوں تو ان عشروں کے علاوہ بڑے پیمانے پر بھی عشرہ مجالس ہو جاتے ہیں مگر کیوں کے ان کا تسلسل نہیں اس لیے ان کا ذکر نہیں کیا جا رہا۔ ویسے اوپر بیان کردہ مساجد اور امام بارگاہوں میں مسلسل مختلف خمسہ مجالس چلتے رہتے ہیں جن میں المنتظر اکیڈمی کا خمسہ مجالس 3 ربیع الاول سے 7 ربیع الاول تک 2005 سے حسنین مسجد میں ہورہا ہے۔ فروغ علوم ال محمد کا خمسہ 11 صفر سے 15 صفر تک جو 2001 سے مرکزی امام بارگاہ میں ہوتا ہے اور انجمن غلامان علمدار کا قدیمی خمسہ 23 سے 27 صفر تک مرکزی امام بارگاہ میں ہوتا ہے اس کے علاوہ بھی دیگر خمسہ مجالس شامل ہیں ۔

ماتمی جلوس عزا

جعفر طیار میں ایام عزا کے دوران بہت سارے ماتمی جلوس نکلتے ہیں جن میں سے کچھ مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ان میں 5 محرم کا جلوس جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اس کے علاوہ باقی بڑے جلوسوں کی تفصیل درج ذیل ہے۔

1۔ بارہ علم بارہ ذوالجناح

یہ جلوس بارہ علم اور بارہ ذوالجناح پر مشتمل ہوتا ہے جو نوے کی دہائی کے آخر میں شروع کیا گیا۔ یہ محرم کے ہر تیسرے اتوار کو نادی علی اسکوائر کے پاس سے نکلتا ہے اور مختلف علاقوں میں سے گشت کرتا ہوا مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔

2۔ توقیر زیدی شہیدکا جلوس

یہ جلوس 80 کی دہائی کے اوائل سے لے کر آج تک 24 محرم کو مولا امام سجاد کی شہادت کے موقع پر توقیر شہید کے گھر سے نکلتا ہے اور مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے ۔ پہلے اس جلوس کو توقیر شہید نکالتے تھے 1994 میں ان کی شہادت کے بعد سے ان کے بھائی اس کو اسی شان و شوکت سے نکالتے ہیں۔ اس جلوس میں صرف انجمن شباب المومنین ماتم داری کرتی ہے اور بعض اوقات اتنے لمبے حلقے بنتے ہیں کہ ان کے گھر سے مرکزی امام بارگاہ کی حدود تک ماتم داری ہو رہی ہوتی ہے۔ یہ جلوس رات کے 11:00 بجے تک برآمد ہوتا ہے اور رات 2 سے 3 بجے تک اختتام پذیر ہوتا ہے۔

3۔ غنچہ العباس کا جلوس

یہ جلوس 80 کی دہائی کے اوائل سے امامیہ امام بارگاہ سے نکل کر مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا بالکل مختلف جلوس ہے کیونکہ یہ بچوں کا جلوس ہوتا ہے اور اس میں تمام انجمنیں چھوٹے بچوں کی ہوتی ہیں۔ یہ جلوس اتنا پرانا ہے کہ اس جلوس کو نکالنے والے بچے اب خود بوڑھے ہو گئے ہیں۔ اس جلوس میں ناصرف جعفر طیار بلکہ ملیر بھر کی اطفال انجمنیں شامل ہوتی ہیں۔

4۔ بہتر تابوت کا جلوس

یہ جعفر طیار کا سب سے معروف جلوس عزا ہے جس میں پورے کراچی سے لوگ شریک ہوتے ہیں اس جلوس میں 72 شہدائے کربلا کے تابوت نکالے جاتے ہیں۔ یہ جلوس 1986 میں ضامن عباس زیدی اور ان کے رفقاء نے شروع کیا جو آج تک اپنی آب و تاب سے جاری ہے۔ یہ جلوس محبان عزا چوک سے برآمد ہوتا ہے اور مختلف راستوں سے ہوتا ہوا مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔

5۔ 18 قمر بنی ہاشم کا جلوس

یہ جلوس نوے کی دہائی کے آخر میں شروع ہوا۔ یہ ربیع الاول کے پہلے ہفتے کی رات کونکالا جاتا ہے جو کہ نادی علی اسکوائر کے پاس سے نکلتا ہے اور حسنین مسجد میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ پہلے یہ جلوس اتوار کو نکالا جاتا تھا اور مرکزی امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا تھا مگر اب اس کے روٹ اور دن کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

6۔ ربیع الاول کی پہلی اتوار کا جلوس

یہ جعفر طیار کا سب سے قدیم جلوس ہے پانچ محرم کے جلوس کی طرح یہ جلوس بھی 1956 سے نکالا جا رہا ہے۔ یہ جلوس امامیہ امام بارگاہ سے برآمد ہوتا ہے اور مختلف راستوں سے ہوتا ہوا حسینی سفارت خانے میں جا کر اختتام پذیر ہوتا ہے۔

7۔ جلوس داخلہ مدینہ

اظہر حسین زیدی صاحب جب بی ایریا سے جعفر طیار میں منتقل ہوئے تو انہوں نے 8 ربیع الاول کو جلوس داخلہ مدینہ 1979 میں نکالا جسے 1982 میں انجمن جعفرطیار نے لے لیا۔ اور آج تک یہ جلوس انجمن جعفرطیار ہی نکال رہی ہے۔ یہ جلوس آخری محرم کے جلوس کے نام سے بھی مشہور ہے اور یہ مرکزی امام بارگاہ سے نکل کر مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے زیدیہ امام بارگاہ میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ یہ جلوس مجمعے کے لحاظ سے اتنا بڑا ہوتا ہے کہ اس کا دوسرا سرا مرکزی امام بارگاہ پر ہی ہوتا ہے اور پہلا سرا زیدیہ امام بارگاہ پہنچ جاتا ہے۔

8۔ دیگر جلوس

ان جلوسوں کے علاوہ بھی جعفر طیار میں چھوٹے بڑے بہت سارے جلوس نکالے جاتے ہیں جن کی تعداد بہت زیادہ ہے جن میں قابل ذکر عاشور کی شام العباس کا جلوس، چہلم کا الصبح کا جلوس، 28 صفر کا جلوس اور شہنشاہ بھائی کے گھر کے جلوس وغیرہ ہیں۔

ایام عزا کی شب بیداریاں اور دیگر مجالس

شب بیداری یعنی رات کو مجلس شروع ہوتی ہے اور مجلس کے بعد نوحہ خوانی کا آغاز ہوتا ہے جو فجر کی اذان تک جاری رہتا ہے۔

1976 میں جب انجمن عزائے حسین کا قیام عمل میں آیا تو اسی انجمن نے سب سے پہلے جعفر طیار میں امامیہ امام بارگاہ میں شب بیداری کا آغاز کیا۔ جب 1983 میں جعفر طیار کی تمام انجمنوں نے مل کر انجمن جعفرطیار بنائی تو اس شب بیداری کا انتظام انجمن جعفر طیار کے ہاتھ میں آ گیا۔ یہ شب بیداری بہت بڑے پیمانے پر ہوتی تھی جس میں نہر فرات، خیام حسینی، تلہ زینبیہ اور فوج حسینی بنا کر منظر کشی کی جاتی تھی اور ساتھ ساتھ پوری رات کراچی بھر سے آنے والی انجمنوں کی ماتم داری کا سلسلہ چلتا رہتا تھا اور ایک بہت بڑا مجمع ان کو سننے کے لیے آتا تھا۔

1989 میں انجمن عزائے حسین دوبارہ الگ ہو گئی اور اس نے مرکزی امام بارگاہ میں اپنی الگ شب بیداری شروع کردی۔ اس دور میں جعفر طیار میں شب بیداریاں اتنی بڑی تعداد میں ہوتی تھیں کہ ہر جمعرات کو مرکزی امام بارگاہ اور امامیہ امام بارگاہ میں کسی نہ کسی انجمن کا پروگرام ہو رہا ہوتا تھا۔

2000 کے بعد سے شب بیداری میں عوامی شرکت کم سے کم ہونے لگی اور اس کو دیکھتے ہوئے اور مختلف وجوہات کی بنا پر انجمن جعفرطیار نے 2002 میں اپنی شب بیداری کو ختم کرکے عشرہ مجالس شروع کر دی۔ انجمن جعفرطیار کی پیروی کرتے ہوئے بہت ساری انجمنوں نے اپنی شب بیداری کو مجلس عزا تک محدود کردیا ہے۔ ان مجالس میں محبان عزا کی 6 ربیع الاول کی مجلس 1983 سے شروع ہوئی تھی اب مرکزی حیثیت حاصل کر گئی ہے۔

خواتین کی مجالس

جعفر طیار میں ایام عزا کے دوران خواتین کے مجالس کے عشرے سیکڑوں کی تعداد میں ہوتے ہیں۔ جب کہ ہر گھر میں ایک لازمی خواتین کی مجلس ضرور ہوتی ہے۔ جس کے گھر مجلس ہوتی ہے وہ پورے کراچی بھر کے خاندان والوں کو ضرور بلاتا ہے۔ مجلس کے اختتام پر تبرک بٹتا ہے اور اس کے بعد خاندان والوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔ یہ کلچر پورے کراچی میں عام ہے۔ مگر جعفر طیار میں جب مجلس اختتام پذیر ہوتی ہے تو تبرک باٹنا جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے۔ یہاں کچھ خاندان ایسے ہیں جو کہ باقاعدہ طور پر تبرک کے لیے مجلس میں گھستے ہیں اور انتہائی بدنظمی کر کے تبرک حاصل کرتے ہیں۔ یہ ان کی تیسری پشت ہے جو جعفرطیار میں اسی طرح سے تبرک حاصل کر رہی ہے۔ ان لوگوں کی وجہ سے عام طور پر مجالس اپنے اختتام پر انتہائی بدنظمی کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس مخصوص خاندان کی تربیت اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ ان پر عام طور پر کوئی توجہ نہیں دیتا یہاں تک کہ ان کی تیسری پشت بھی اسی طرح چھینا جھپٹی کرکے تبرک حاصل کر رہی ہے۔ اب یہ پورا ایک قبیلہ ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان لوگوں کے بڑوں سے باقاعدہ میٹنگ کی جائے تاکہ ان کی کسی طرح سے بھی تربیت اور اصلاح کی جا سکے۔۔

امید ہے جعفر طیار کے علماء اور دانشور اس قبیلے کی اصلاح کے لیے کوئی اقدامات اٹھائیں گے۔

تحریر : پروفیسر علی عمران

Dr. Rehan Azmi is no more ( ڈاکٹر ریحان اعظمی )

‏انا اللّٰه و انا الیہ راجعون

Rehan Azmi

Dr. Rehan Azmi was a writer, a poet, and a well-known writer of Nohas, Naats, Manqabat, etc. He had the honor of being a ‘Guinness World record’ holder for the 7th speediest poetry writing in the world in 1997.

Rehan Azmi is a reputed name in the Shia community, as well as all Urdu-speaking groups in Pakistan.

He was a great religious poet who had written many naats and Qasidas such as, Khuwaab Se Tabeer TakManzar Ba Manzar KarbalaQalam Tor Dia, and several more.

Not much is known as to how the poet passed away, but his fans mourn and pray as #RehanAzmi trends number 1 on Twitter.

He was apparently hospitalized and was in a poor health condition.

Once a Shia scholar named Talib Jauhari shared a few remarks on the poetry book by Rehan Azmi by saying, “Why do every Noha reader want to recite Noha written by Rehan? How come he fulfills the demand of all Noha reciters? These were questions of my surprise; I got satisfied when I personally saw Rehan begging this literacy treasure from Ali Ibn Abi Talib at his shrine in Najaf.”

Today one of the greatest Religious poet of all times Dr. Rehan Azmi passed away. May Allah give him the highest rank in Jannah. Ameen.

معروف شاعر اہلبیت ڈاکٹر ریحان اعظمی انتقال کر گئے

‎#DrRehanAzmi
‎#ڈاکٹرریحاناعظمی
‎#RehanAzmi ‎

” Moot Sey Kis Ko Dastkari Hai
Aaj Woh, Kal Hamaari Bari Hai “
Afsoos Kay Aaj Alam e Islam Aik Azeem, Aik Behtreen Shahir e Ahlybait as Janaab Rehan Azmi Sey Mehroom Hugayaa.
Allah Mahroom Kay Darjaat Buland Farmayee Ameen!
DrRehanAzmi
ڈاکٹرریحاناعظمی
RehanAzmi https://t.co/qXaDDVtkkN

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

I’m deeply disheartened to say that Dr Rehan Azmi, an extremely well known poet in our community has passed away.
💔 More than 40 years of service to spread the message of Ahlulbayt.

❤️ #rehanazmi

#DrRehanAzmi

ڈاکٹرریحاناعظمی https://t.co/BDZ0V8tPPN